چینی صدر جن پنگ و امریکی صدر بائیڈن کی ملاقات، کیا کشیدگی میں کمی ہوگی؟

   

واشنگٹن : چینی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ شی جن پنگ ایشیا پیسفک اقتصادی تعاون علاقائی فورم کے صدارتی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سان فرانسسکو روانہ ہو گئے ۔شی جن پنگ کی امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات اہمیت کی حامل ہے۔امریکی اور چینی صدور کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو گی جب دونوں سپر پاورز کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔فورم سے پہلے فریقین کی جانب سے پرتپاک پیغامات آرہے ہیں جو کہ دنیا کی معیشت کا 60 فیصد بنانے والے 21 ممالک کو اکٹھا کریں گے۔جو بائیڈن نے گزشتہ روز کہا تھا کہ امریکہ، چین سے دور ہونے کی کوشش نہیں کر رہا اس کے برعکس وہ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔بائیڈن کا یہ بیان دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے سان فرانسسکو روانگی سے کچھ دیر قبل وائٹ ہاؤس سے سامنے آیا ہے۔اپنی روانگی سے قبل میڈیا کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بائیڈن نے چینی رہنما کے ساتھ ملاقات کے مقصد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ معمول کے رابطے کے عمل پر واپس جانا اورایک دوسرے سے رابطہ رکھنا ہمارے مفاد میں ہے۔سینئر انتظامیہ کے حکام کی عارضی معلومات کے مطابق، دونوں رہنما سان فرانسسکو کے ووڈ سائیڈ ٹاؤن میں واقع تاریخی کنٹری ہاؤس میوزیم فلولی اسٹیٹ میں ملاقات کریں گے۔ علاوہ ازیں،ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ بائیڈن اور جن پنگ سے توقع ہے کہ وہ اس معاہدے کے تحت مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کریں گے جسے ملٹری میری ٹائم ایڈوائزری ایگریمنٹ کہا جاتا ہے۔اس معاہدے کا مقصد امریکی اور چینی بحریہ اور فضائی افواج کے درمیان مواصلات کو بہتر بنا کر فضائی اور سمندر میں سکیورٹی کو بڑھانا ہے۔یاد رہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات جو کہ طویل عرصے سے پیچیدہ ہیں، گزشتہ سال امریکہ کی جانب سے ہائی ٹیک مصنوعات پر نئے برآمدی کنٹرول اور اس پر چین کے ردعمل کے حوالے سے اقدامات کے بعد شدید دباؤ میں آئے تھے۔