امریکی حکومت کے اندیشے فطری بات ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان
اسلام آباد 4 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ 2002 میں امریکی صحافی ڈانیل پرل کے قتل کیس کے اصل ملزم کی سزائے موت کو برخواست کردینے اور دوسرے تین ملزمین کو بری کردینے ایک نچلی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا ۔ وزiر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ بات بتائی ۔ واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے ہفتے کو فیصلہ سناتے ہوئے اس کیس کے اصل ملزم القاعدہ لیڈر احمد عمر سعید شیخ کی سزائے موت کو سات سال جیل کی سزا میں تبدیل کردیا تھا اور دوسرے تین ملزمین فہد نسیم ‘ سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو بری کردیا تھا ۔ یہ تینوں بھی اس کیس میں جیل میں تھے ۔ امریکہ نے پاکستانی عدالت کے اس فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے متاثرین کیلئے چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا کہ ان کا ملک ڈانیل پرل کو فراموش نہیں کریگا اور ان کی روایات کو برقرار رہے گا جو انہوں نے ایک حوصلہ مند اور بہادر صحافی کی حیثیت سے قائم کئے تھے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بہیمانہ قتل کیس میں انصاف کیا جانا چاہئے ۔ بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر صوبہ سندھ کی حکومت نے اصل ملزم کو جیل میں رکھنے کیلئے برقراری عوامی نظم قانون لاگو کردیا تھا ۔ سندھ کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اصل ملزم احمد عمر سعید شیخ اور ان کے تین ساتھی اگر رہا کردئے جائیں تو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بگاڑ سکتے ہیں اور صورتحال بگڑ سکتی ہے اس لئے انہیں تحویل میں ہی رکھنا ضروری ہے ۔ وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت امریکہ کو اس کیس میں اندیشے ہیں اور یہ فطری بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہمارے پاس اس فیصلے کے خلاف اپیل کا راستہ موجود ہے اور ہم یہ اپیل دائر کریں گے ۔
