غریب عوام ٹیکس کی ادائیگی میںپس و پیش کا شکار ۔ حکومت کے فیصلے پر ناراضگی
حیدرآباد۔2۔مئی۔ (سیاست نیوز) حکومت سے بے گھر افراد کو الاٹ ہونے والے ڈبل بیڈ روم مکانات حاصل کرنے والوں کا حکومت کے ریکارڈ میں وجود نہیں رہے گا!غریب مستحقین جو ڈبل بیڈ روم اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کو ٹیکس کی ادائیگی تک ان کے مکان نمبر جاری نہیں کئے جائیں گے جس کی وجہ سے ان کے آدھار کارڈ پر درست مکان نمبر نہ ہونے سے ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے میں دشواریاں ہوسکتی ہیں۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے ڈبل بیڈ روم اسکیم کے استفادہ کنندگان کو اسسمنٹ کرواتے ہوئے ٹیکس ادا کرنے کی ہدایت دی اور مشورہ دیا ہے کہ وہ اسسمنٹ کے بعد ٹیکس ادا کرکے اپنے فلیٹس کیلئے علحدہ فلیٹ نمبر حاصل کرسکتے ہیں۔ ان فلیٹس کیلئے سالانہ ٹیکس 2500 تا 3000ادا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے فلیٹس مالکین سے ٹیکس ادا کرنے میں تردد کا مظاہرہ کیا جا رہاہے ۔فلیٹس پر ٹیکس ادا کرنے احکامات سے فلیٹ مالکین میں ناراضگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جب وہ اپنے آدھار کارڈ یا ووٹر آئی ڈی کارڈ میں پتہ کی تبدیلی کیلئے کوشش کر رہے ہیں تو ان سے کہا جا رہاہے کہ وہ مکان نمبر کالازمی اندراج کروائیں اور مکان نمبر کے حصول میں دشواریاں ان کیلئے مسئلہ بننے لگی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ان احکامات کے مطابق فلیٹس کیلئے برقی کنکشن ان کامپلکس کے پتہ پر جن لوگوں کو فلیٹ الاٹ کئے گئے ان کے نام سے دیئے جا رہے ہیں اور برقی کنکشن کے حصول میں کوئی دشواری نہیں ہے لیکن ان پر بھی مکمل پتہ نہ ہونے سے وہ اسے بطور ثبوت رہائش استعمال نہیں کرپارہے ہیں ۔مسز پی وجیہ ریڈی کارپوریٹر خیریت آباد نے بتایا کہ سابق میں اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے علاوہ دیگر اسکیمات کے تحت غریبوں کو فراہم امکنہ پر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا تھا اور نہ انہیں اسسمنٹ کروانے کہا جاتا تھا بلکہ حکومت اور متعلقہ بلدیات کی جانب سے امکنہ اسکیم استفادہ کنندگان کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے کر ان کے اسسمنٹ حکومت ادا کرتی تھی اسی لئے موجودہ حکومت اور بلدیہ کو فوری ڈبل بیڈروم اسکیم کے استفادہ کنندگان کو انفرادی مکان نمبرات کی فراہمی اور ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے احکام کی اجرائی عمل میں لانی چاہئے ۔م