ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے الاٹمنٹ و حوالگی میں بدعنوانیوں کا الزام

   

تقریب میں مدعو کرنے کے بعد نام شامل نہ ہونے کی اطلاع ۔ سیاسی کارکنوں پر نوازشیں

حیدرآباد۔3۔ستمبر۔(سیاست نیوز) شہر کے مختلف علاقوں میں تقسیم کئے جانے والے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی حوالگی میں بے تحاشہ بدعنوانیوں کے الزام عائد کئے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ جنہیں فلیٹس کے الاٹ ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے تقسیم کے جلسہ میں پہنچنے کے لئے کہا گیا تھا ان میں بڑی تعداد کو جلسہ کے بعد اس بات سے مطلع کیا گیا کہ ان کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے۔شہر کے مختلف مقامات پر جہاں ریاستی حکومت کی جانب سے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تقسیم کے لئے گذشتہ یوم پروگرام منعقد کئے گئے تھے ان پروگرامس میں شرکت کے بعد عہدیدار وں اور ان جلسوں میں شرکت کرنے والوں کے درمیان لفظی جھڑپ کے واقعات دیکھنے میں آئے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور ضلع انتظامیہ کے دفاتر سے ملنے والے فون کالس پر بسوں کے ذریعہ ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے مقام پر پہنچنے والے درخواست گذاروں کو جلسہ کے اختتام کے بعد اس وقت مایوسی کا سامناکرنا پڑا جب انہیں اس بات کی اطلاع دی گئی کہ ان کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے۔خواتین جنہیں بلدی عہدیداروں سے فون کالس ملے تھے نے بتایا کہ سرکاری عہدیداروں کی جانب سے انہیں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تقسیم کی تقریب میں مدعو کیا گیا اور اس کی کال ریکارڈنگ بھی ان کے پاس موجود ہے لیکن جب پروگرام ختم ہوا تو یہ کہا گیا کہ ان کا نام شامل نہیں ہے۔درخواست گذاروں نے بتایاکہ پروگرام میں شرکت کے بعد جب مہمانان اور اعلیٰ عہدیدار پروگرام سے نکل گئے اس کے بعد پروگرام میں موجود عہدیداروں نے انہیں اس سے واقف کروایا ۔درخواست گذاروں نے الزام عائد کیا کہ ان تقاریب میں محض عوام کی بڑی تعداد دکھانے فون کالس کرتے ہوئے مدعو کیا گیا اور یہاں تک کہا گیا کہ وہ تنہاء نہ آئیں بلکہ اپنے افراد خاندان کے ساتھ اس پروگرام میں شرکت کریں۔بعض مقامات پر یہ الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں کہ سیاسی کارکنوں کو ان فلیٹس کا الاٹمنٹ کروایا گیا ہے ۔ با اثر جماعتوں کے قائدین نے اپنے کارکنوںا ور رشتہ داروں کو فلیٹس کے الاٹمنٹ میںاہم رول ادا کیا ہے ۔ جن سیاسی کارکنوںکو فلیٹس الاٹ ہوئے ہیں ان کا بھی دعوی ہے کہ یہ فلیٹس بھی انہیںخاطر خواہ کمیشن ادا کرنے کے بعد ملے ہیں۔ کوئی مفت میںحاصل نہیںہوئے ہیں۔