برآمدات پر 7 ارب ڈالر مالیتی ہندوستانی سبسیڈی کو غیرقانونی قرار دیدیا گیا، ٹرمپ کا اظہارمسرت
واشنگٹن ۔ یکم ؍ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے ڈبلیو ٹی او (عالمی تجارتی تنظیم) کے تنازعات کی یکسوئی کرنے والے اس پیانل کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے جس نے ہندوستان کے گھریلو برآمدی مراعات اسکیم کے بارے میں دیا تھا۔ امریکہ نے اسے اپنے ورکرس کیلئے ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیا۔ ڈبلیو ٹی او (عالمی تجارتی تنظیم) میں امریکہ نے ہندوستان کے گھریلو برآمدی مراعات کے خلاف ایک معاملہ درج کروایا تھا جس کے بعد مذکورہ پیانل نے یہ فیصلہ سنایا کہ یہ اسکیمات بین الاقوامی تجارتی ضوابط کے مغائر اور غیرمستحکم ہیں۔ اس فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تجارتی نمائندہ رابرٹ لائیتھیزر نے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ہر دستیاب مراعات سے استفادہ کررہا ہے جن میں ڈبلیو ٹی او انفورسمنٹ پر عمل بھی شامل ہے تاکہ امریکی ورکرس بھی اسی سطح کے میدان میں مقابلہ آرائی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کیلئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او کے تنازعات کی یکسوئی کرنے والے اس پیانل کے فیصلہ کے خلاف ہندوستان اپیل کرے گا۔ یاد رہیکہ قبل ازیں صدر ٹرمپ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی مصنوعات پر ہندوستان کے ٹیکسوں کا نفاذ بہت زیادہ ہے جو امریکہ کیلئے ناقابل قبول ہے۔ ہندوستان کو ٹیکسوں کے زائد نفاذ سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔ یہی نہیں بلکہ ٹرمپ نے ہندوستان کو ’’ٹیکسوں کا بادشاہ‘‘ تک کہہ دیا تھا۔ ٹرمپ ہمیشہ سے ’’امریکہ پہلے‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور امریکی مصنوعات پر ہندوستان کے زائد ٹیکسوں کے نفاذ کیلئے ہندوستان کو ہمیشہ تنقیدوں کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ڈبلیو ٹی او نے اپنے فیصلہ میں واضح کردیا ہیکہ ہندوستان کو برآمدات کارکردگی کی بنیاد پرسبسیڈیز فراہم نہیں کرنی چاہئے۔ تنازعات کی یکسوئی کرنے والے پیانل نے اپنے فیصلہ میں ہندوستان کی برآمدی مراعات اسکیمات جیسے مرچنڈائز ایکسپورٹ فرام انڈیا اسکیم (MEIS)، ایکسپورٹ اورینٹیڈ یونٹس (EOVS)، الیکٹرانکس ہارڈویئر ٹکنالوجی پارکس (EHTP) اسکیم، اسپیشل اکنامک زون (SEZ) اور ایکسپورٹ پروموشن کیپٹل گڈس (EPCG) اسکیم عالمی تجارتی ضابطوں کے مغائر اور غیرمستحکم قرار دیا۔