ڈسکامس کا خسارہ 15000 کروڑ تک پہنچ گیا

   

ناکافی سرکاری امداد کے باوجود حکومت فی الحال شرحوں میں اضافہ نہیں چاہتی
حیدرآباد۔/27 نومبر، (سیاست ڈاٹ کام ) برقی سربراہ کرنے والے ادارہ ڈسکامس کا خسارہ 15000 کروڑ روپئے تک پہنچ گیا تاہم چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے برقی سربراہ کرنے والے سرکاری کمپنیوں کو شرحوں میں اضافہ کی اجازت دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ڈسکامس 30 نومبر یا اس سے قبل اوسط مجموعی درکار آمدنی سے متعلق رپورٹ برقی ریگولیٹری کمیشن کو پیش کررہے ہیں۔ ڈسکامس کو بھاری خسارے ہورہے ہیں کیونکہ بشمول گھریلو استعمال صنعت اور بالخصوص زراعت کے لئے کئی شعبوں کو 24×7 برقی کی سربراہی کے ضمن میں ڈسکامس کو حکومت کی طرف سے کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی گزشتہ تین سال سے برقی شرحوں میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے۔ رواں مالیاتی سال 2019-20 کے دوران حکومت کی طرف سے ڈسکامس کو برقی سبسیڈی کے طور پر تقریباً 6079 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے۔ حتیٰ کہ 2018-19 میں حکومت کی طرف سے ڈسکامس کو صرف 5000 کروڑ روپئے کی اعانت کی گئی جس کے نتیجہ میں ڈسکامس کے خسارے اب 15000 کروڑ تک پہنچ گئے ہیں۔ ڈسکامس میں مالی مسائل اور ان نقصان کے لئے اگرچہ ریاستی حکومت ذمہ دار ہے لینک اس کے ساتھ بھاری شرح پر پر برقی کی خریدی اور کم قیمت پر سربراہی بھی خسارہ کی ایک اہم وجہ ہے۔ علاوہ ازیں اواخر دسمبر بلدی انتخابات بھی منعقد ہوسکتے ہیں جس کے پیش نظر رواں ہفتہ کے اوائل الکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن میں پیش کی جانے والی مجموعی اوسط درکار آمدنی کی تجویز میں برقی شرحوں میں اصافہ کیلئے ریاستی حکومت کسی بھی صورت میں ڈسکامس کو اجازت دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ ڈسکامس کو ریاستی حکومت کی طرف سے مزید مالیاتی امداد مہیا کی جائے گی۔برقی سربراہ کرنے والے اداروں کی شکایت ہے کہ آمدنی میں کمی اور مصارف میں اضافہ کے سبب سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ برقی شرحوں میں اضافہ سے آمدنی کا موقف کسی حد تک مستحکم ہوسکتا ہے لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ برقی شرحوں میں اضافہ نہیں چاہتے۔