حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ خانگی کالجس انتظامیہ کی تنظیم نے غیر معینہ مدت کے بند کا اعلان کرکے کہا کہ کل پیر سے ریاست میں ڈگری اور پروفیشنل کالجس غیر معینہ مدت کیلئے بند کردیئے جائیں گے اور 4 نومبر کو کالجس انتظامیہ کے ذمہ دار اپنے علاقوں کے اراکین اسمبلی ‘ اراکین پارلیمان سے ملاقات کرکے یادداشت پیش کرینگے اور اپنے مسائل سے واقف کروائیں گے۔ خانگی کالجس کی فیڈریشن نے بتایا کہ حکومت سے فیس کی بازادائیگی اور اسکالر شپس کی عدم اجرائی کے خلاف احتجاج کا 3نومبر سے آغاز کیا جائے گا اور اس سے قبل انتظامیہ نے سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کرکے حکومت سے 9000 ہزار کروڑ کے بقایا جات کی عدم اجرائی اور حسب وعدہ نومبر کے آغاز سے قبل 900کروڑ کی اجرائی میں ناکامی کے خلاف احتجاج سے واقف کروایا تھا لیکن حکومت نے کوئی پیشرفت نہیں کی بلکہ خانگی کالجس کے مطالبہ کو نظرانداز کیا اسی لئے 3نومبر سے کالجس کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کرنے کافیصلہ کیاگیا جبکہ 4نومبر کو اراکین اسمبلی و پارلیمان کو یادداشت حوالہ کی جائے گی 5نومبر کو تعطیل کے سبب کوئی سرگرمیاں نہیں ہوں گی اور 6 نومبر کو شہر میں کالجس کے تدریسی عملہ کا اجلاس منعقد کیا جائے گا اور ۔ زائد از ایک لاکھ اساتذہ شرکت کریں گے۔ 10 نومبر کو شہر میں ’چلو سیکریٹریٹ‘ مارچ کا فیصلہ کیاگیا اور 10 نومبر کو طلبہ کے مارچ میں جملہ 10 لاکھ طلبہ کی شرکت کو کالج انتظامیہ یقینی بنانے کوشاں ہے ۔ کالجس کے ذمہ داروں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ 15ستمبر سے کالجس کے انتظامیہ سے وعدہ کر رہی ہے لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا اسی لئے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں شہروں و ریاست کے تمام ڈگری اور پروفیشنل کالجس احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں جبکہ حکومت نے خانگی کالجس پر دباؤ ڈالنے کالجس میں بدعنوانیوں کے خلاف کارروائی کے نام پر ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ سے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ فیڈریشن نے بتایا کہ بعض کالجس جو سیاستدانوں کے ہیں ان کے سواء کسی بھی کالج کو فیس بازادائیگی اور اسکالر شپس کی رقومات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ انہیں نشانہ بنانے کوشش کی جار ہی ہے ۔3