انٹورپ: سات برس کی قانونی جنگ کے بعد بلجیم کی آرٹسٹ کوعدالت نے سرکاری طور پر شہزادی تسلیم کر لیا ہے۔ڈلفین بوئل بلجیم کے سابق بادشاہ البرٹ ٹو کو اپنا والد ثابت کرنے کے لیے قانونی جنگ لڑ رہی تھیں۔عدالت نے ڈی این اے ٹسٹ کے بعد ڈلفین بوئل کو ’پرنسس آف بلجیم مانا ہے۔عدالت کے فوری فیصلے کو خوشگوار حیرت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ یہ فیصلہ 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوری میں کیے گئے ڈی این اے ٹسٹ سے اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ کنگ البرٹ ٹو ڈلفین بوئل کے بائیلوجیکل والد ہیں۔البرٹ ٹو چھ برس قبل اپنے بیٹے فلپ کے حق میں بادشاہت سے دستبردار ہوئے تھے، ایک طویل عرصے سے سابق بادشاہ البرٹ ٹو ڈلفین بوئل کے دعوے کو غلط قرار دے رہے تھے۔ شہزادی تسلیم کیے جانے کے بعد ڈلفین بوئل کے نام کے ساتھ اب ان کے والد کا نام ’سیکس کوبرگ‘ لکھا جائے گا۔ان کے دو بچوں جوسفین اور اوسکر کو بھی شاہی لقب ملے گا۔ڈلفین بوئل کے وکیل کا کہنا ہے کہ ’ایک قانونی جیت میں جیت والد کی محبت کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
