حیدرآباد۔/8 مئی، ( سیاست نیوز ) ملک بھر میں صوتی آلودگی پر کنٹرول کے نام پر مساجد کے لاؤڈ اسپیکرس کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے لیکن شادی بیاہ کے موقع پر ڈی جے کے استعمال کے خطرات کی کسی کو فکر نہیں۔ مدھیہ پردیش کے اُجین میں شادی کی ایک بارات میں ڈی جے کی آواز نے ایک نوجوان کی جان لے لی۔ بتایا جاتا ہے کہ اُجین کے قریب امبودیا کے رہنے والے 18 سالہ لال سنگھ اپنے دوست وجئے کی شادی میں شرکت کیلئے تاج پور پہنچا۔ گاؤں میں بارات نکالی گئی اور لال سنگھ کے دوستوں نے ڈی جے کا انتظام کیا تھا۔ تمام دوست ڈی جے پی کی آواز پر رقص کررہے تھے۔ لال سنگھ بھی رقص کرتے ہوئے موبائیل سے ویڈیو بنانے لگا لیکن اچانک بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ قریبی ہاسپٹل منتقل کرنے پر اسے مردہ قرار دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ڈی جے کی بڑی آواز نے نوجوان کی جان لے لی ہے اور اس کے قلب پر حملہ سے موت واقع ہوئی ۔ ڈاکٹرس کے مطابق ڈی جے کی اونچی آواز سے جسم میں غیر معمولی تغیرات رونما ہوتے ہیں اور زیادہ آواز کی صورت میں خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں جس کا اثر راست طور پر دل اور دماغ پر ہوتا ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر تقاریب و مذہبی جلوسوں میں ڈی جے استعمال کرنے والوں کیلئے یہ ایک سبق ہے۔ر