ڈی سرینواس نے کے سی آر کو للکارا

   

وزیر پرشانت ریڈی کے خلاف کارروائی کرنے ٹی آر ایس کو چیالنج
حیدرآباد ۔ 7 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ٹی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا اور سابق صدر پردیش کانگریس کمیٹی ڈی سرینواس نے جو ڈی ایس کے نام سے مشہور ہیں ، کہا کہ کانگریس کو چھوڑنا ان کی سیاسی زندگی میں ایک بڑی غلطی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کانگریس پارٹی کو اس لیے چھوڑا کیوں کہ انہیں پارٹی میں بے توقیری کا سامنا کرنا پڑا ۔ ڈی ایس نے کہا کہ ’ میں نے اس وقت کے اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ریاست کے انچارج ڈگ وجئے سنگھ سے اختلافات کے باعث ذہنی کرب کے ساتھ کانگریس کو چھوڑا ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے میرے بارے میں سونیا گاندھی کو غلط اطلاعات دی تھیں ۔ ‘ ڈی ایس نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے علحدہ ریاست تلنگانہ کو منظوری دی اور بی جے پی نے مدد کی ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ان کے خاندان کو بالواسط اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈی ایس نے الزام عائد کیا کہ باپ ، بیٹا اور بیٹی گولڈن تلنگانہ کے نام پر گولڈ بن گئے ۔ نظام آباد میں بلدی انتخابات کی مہم میں وزیر عمارات و شوارع وی پرشانت ریڈی کی جانب سے ان پر کی گئی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈی ایس نے کہا کہ وہ میڈیا سے دوری اختیار کررہے ہیں کیوں کہ وہ کسی ناگوار لفظی جنگ میں پڑنا نہیں چاہتے اور نہ ہی خود غرض سیاست کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے ضلع کے قائدین سے سوال کیا کہ اگر وہ ان کے خلاف مواد رکھتے ہیں تو کھل کر آئیں ۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ پرشانت ریڈی ایک پاگل شخص کی طرح تبصرے کررہے ہیں ۔ ڈی ایس نے ٹی آر ایس کو چیالنج کیا کہ اگر اس کے پاس گٹس ہوں تو وزیر کے خلاف کارروائی کرے ۔۔