ڈی سرینواس کے تازہ ریمارکس، سیاسی حلقوں میں موضوع بحث

   

پارٹی اور حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان، جی ایچ ایم سی کے انتخابات پر اعتراض

حیدرآباد: سینئر قائد ٹی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا ڈی سرینواس نے سنسنی خیز ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی انہیں بھلا چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف تلنگانہ جذبہ کی وجہ سے ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوا تھا ۔ مگر قائدین نے عوامی توقعات کو پورا نہیں کیا جس کی وجہ سے عوامی ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔ ڈی سرینواس کے یہ ریمارکس سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکے ہیں ۔ جمہوریت میں پارٹیوں کے خلاف جنگ لڑنے کے معنی ابھی تک سمجھ میں نہ آنے کا ڈی سرینواس نے دعویٰ کیا ہے ۔ انتخابات کے بعد سیلاب کے متاثرین میں امداد تقسیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو ووٹ دینے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ ڈی سرینواس نے کہا کہ شہر حیدرآباد کے تمام فلائی اوورس کانگریس کے دورحکومت میں تعمیر کئے گئے ، اگر شہر حیدرآباد کو ترقی دی گئی ہے تو سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی ضرورت کیا ہے ۔ جس طرح جی ایچ ایم سی کے انتخابات کا انعقاد کیا جارہا ہے وہ قابل اعتراض ہے ۔ وہ اپنی سیاسی زندگی میں اس طرح کے انتخابات کبھی نہیں دیکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے متاثرین کو امداد تقسیم کرنے کے بعد انتخابات کا انعقاد کیا جاسکتا تھا ۔ الجھن کے شکار حالت میں انتخابات کا انعقاد کرنا غلط بات ہے ۔ ان ریمارکس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی وقت ڈی سرینواس ٹی آر ایس سے مستعفی ہوسکتے ہیں ۔ طویل عرصہ تک کانگریس پارٹی میںقد آور قائد کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ڈی سرینواس کو ٹی آر ایس میں وہ مقام نہیں ملا جس کی وہ اُمید کررہے تھے جس سے وہ پارٹی قیادت سے ناراض ہے ۔ متحدہ ضلع نظام آباد کی نمائندگی کرنے والے ٹی آر ایس کے منتخب عوامی نمائندوں بشمول کے کویتا نے پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے کا ڈی سرینواس پر الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب روانہ کیا تھا ۔ سیاسی مفاد پرستی کیلئے اپنے فرزند کو بی جے پی میں روانہ کرنے کا ڈی سرینواس پر الزام عائد کیا تھا ۔ اس مکتوب پر ڈی سرینواس نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طرف سے خود استعفی نہیں دیں گے اور نہ ہی پارٹی چھوڑ کر جائیں گے ۔ اس سے ان پر جو الزام عائد کیا جارہا ہے وہ حقیقت تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا ۔ لہذا انہوں نے پارٹی سے انہیں معطل کرنے کی چیف منسٹر سے خواہش کی تھی ۔