لندن، 21 ستمبر (ایجنسیز) شہزادی ڈیانا کی موت کے کئی سال بعد ان کے بھائی ارل اسپینسر نے کنگ چارلس سے متعلق ایک ایسا سنگین دعویٰ کر دیا ہے جس نے برطانوی شاہی خاندان کے ماضی کے تلخ باب کو ایک بار پھر خبروں میں لا کھڑا کیا۔ اپنی نئی کتاب ’سوان سانگ: ڈیانا، مائی سسٹر‘ میں ارل اسپینسر نے دعویٰ کیا ہے کہ 1997 میں پیرس میں کار حادثے کے نتیجے میں ڈیانا کی موت کے بعد ان کی اس وقت کے شہزادہ چارلس سے فون پر گفتگو ہوئی تھی۔ چارلس نے مبینہ طور پر ان سے کہا تھا، ’ہم اسے جلد بھول جائیں گے‘۔ ڈیانا کے بھائی نے اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ گفتگو کے دوران چارلس کا انداز انہیں غیرمعمولی طور پر پْرجوش محسوس ہوا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں چارلس کے مبینہ رویے کو تقریباً ایسے شخص سے تشبیہ دی جس نے ابھی کوئی بڑی لاٹری جیتی ہو۔ بکنگھم پیلس نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ محل کی جانب سے اسپینسر کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ شدید صدمہ اور غم بعض اوقات ایک ہی واقعے یا گفتگو سے متعلق مختلف افراد کی یادداشت کو مختلف انداز میں متاثر کرسکتا ہے۔ نئی کتاب نے ایک بار پھر پرنس چارلس اور ڈیانا کے تعلق، ان کے درمیان ماضی کے اختلافات اور موجودہ ملکہ کیمیلا سے چارلس کے تعلق سے متعلق پرانی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔