حیدرآباد۔23 فروری(سیاست نیوز) کومت کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دینے کے علاوہ یو پی آئی ادائیگی پر کوئی چارجس وصول نہ کرنے کے اعلان کے بعد اب ایسی شکایات منظر عام پر آنے لگی ہیں جن میں کہا جا رہاہے کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ساتھ 5فیصد اضافی نقد وصول کیا جا رہاہے۔ کیرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے فیصلہ کے بعد شہر حیدرآباد کے کئی ریستوراں اور ہوٹلوں کے علاوہ کئی تجارتی اداروں کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگی قبول نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے تجارتی اداروں میں اطلاع چسپاں کرتے ہوئے گاہکوں کو مطلع کردیا جانے لگا تھا کہ ان کے ادارو ںمیں ڈیجیٹل ادائیگی قبول نہیں کی جاتی ان کی جانب سے کیا جانے والا یہ اعلان مکمل طور پر غیر قانونی ہے لیکن اس کے باوجود بیشتر ریستوراںاور تجارتی اداروں میں یہ تحریر چسپاں ہے لیکن اب جبکہ ڈیجیٹل ادائیگی کے چلن میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور لوگ ڈیجیٹل ادائیگی کررہے ہیں تو ریستوراں اور تجارتی اداروں کے مالکین کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگی وصول کی جانے لگی ہے لیکن جس طرح کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں 2 فیصد اضافی رقومات وصول کی جاتی تھیں اسی طرح ان تجارتی اداروں میں ڈیجیٹل ادائیگی کی صورت میں 5 فیصد اضافی رقومات ادا کرنے کیلئے کہا جا رہاہے اور باضابطہ ڈیجیٹل ادائیگی کی صورت میں 5 فیصد اضافی بل طلب کیا جانا غیر قانونی ہے لیکن اس کے باوجود ایسا کیا جا رہاہے جو کہ گاہکوں کو لوٹنے کے علاوہ صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے بیشترریستوراں اور تجارتی اداروں میں ڈیجیٹل ادائیگی قبول نہ کئے جانے اور اگر قبو ل کی جاتی ہے تو اس پر 5 فیصد اضافی ٹیکس یا چارج وصول کئے جانے کے متعلق دریافت کرنے پر یہ کہا جا رہاہے جو ڈیجیٹل ادائیگی ہے وہ درحقیقت کھاتہ میں ریکارڈ ہوتی ہے اسی لئے اس پر عائد ہونے والا ٹیکس وصول کیا جا رہاہے اور جو نقد ادائیگی میں بل وصول کیا جا تا ہے اس پر کوئی ٹیکس وصول نہیںکیا جاتا ۔ صارفین فورم کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ کسی بھی تجارتی ادارہ یا ریستوراں یا ہوٹل کو ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے سے انکار کا حق حاصل نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے علاوہ ازیں ڈیجیٹل ادائیگی کی صورت میں اضافی رقم وصول کرنا اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے ۔ م
کہ مذکورہ ادارہ کی جانب سے نقد ادائیگیوں کو غیر محسوب رکھا جا رہاہے اسی لئے اس طرح کی کسی بھی حرکت سے گریز کرتے ہوئے صارفین کو سہولت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہئے ۔م