کئی خانگی اسکولس کا طلبا کی شخصی حاضری پر اصرار

   


آن لائن کلاسیس کو بند کرکے دباو ڈالا جا رہا ہے ۔ محکمہ تعلیم کی بھی خاموشی

حیدرآباد۔ شہر حیدرآباد کے سرکردہ اسکولوں کے خلاف محکمہ تعلیم کو شکایات مل رہی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ جن اسکول انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کی حاضری کو لازمی قرار دیا جا رہاہے اور آن لائن کلاسس کو بند کیا گیا ہے ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ حیدرآباد میں کئی اسکولوں کی جانب سے اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کے علاوہ طلبہ پر دباؤ ڈالنے کیلئے اسکول انتظامیہ کی جانب سے آن لائن کلاسس کو بند کردیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے کلاسس کے آغاز کی اجازت دے دی گئی ہے تو طلبہ کو کلاسس میں شرکت کرنی چاہئے ۔ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے اپنے بچوں کو اسکول روانہ نہ کرنے کے فیصلہ کو دیکھتے ہوئے خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کی جانب سے آن لائن کلاسس بند کرتے ہوئے طلبہ کو تعلیم سے محروم کیا جانے لگا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اسکولوں میں 20 فیصد سے زائد طلبہ شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ اسکول انتظامیہ کو جگتیال اور کریم نگر میں طلبہ کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات سے واقف کروائے جانے کے باوجود یہ کہا جا رہاہے کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل آوری کر رہے ہیں جبکہ حکومت نے جو احکام جاری کئے ہیں ان میں آن لائن کلاسس کے سلسلہ کو جاری رکھنے کی تاکید کی گئی ہے اور جن اسکولوں اور کالجس کی جانب سے طلبہ کو مجبور کرنے کی کوشش کی جائے گی ان کے خلاف شکایت کی صور ت میں ان کی مسلمہ حیثیت اور الحاق کو برخواست کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کو جاریہ ماہ کے پہلے ہفتہ میں کئی شکایات موصول ہوچکی ہیں اور محکمہ تعلیم کی جانب سے ان اسکولوں اور اداروں کے خلاف کاروائی کا جائزہ لیا جا رہاہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے حکام کی جانب سے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 14مارچ یعنی گریجویٹ ایم ایل سی الیکشن کیلئے رائے دہی تک کسی بھی طرح کی کوئی کاروائی نہ کریں اور رائے دہی کے بعد حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کاروائی کے متعلق احکام جاری کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کے اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیاجانے لگا ہے کہ ریاستی حکومت ایم ایل سی انتخابات کے پیش نظر خانگی اسکولوں کے دباؤمیں چھٹویں تا آٹھویں جماعت کے باضابطہ کلاسس کی اجازت دی ہے اور اب جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو 15مارچ تک کاروائی نہ کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے تو اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں ان میں کسی حد تک سچائی ہے۔محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ 15مارچ کے بعدایسے اسکولوں اور کالجس کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کی جائے گی جو کہ آن لائن کلاسس کو روکتے ہوئے طلبہ کو لازمی کلاسس میں شرکت پر مجبور کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔