راما گنڈم پراجکٹ میں 6 ہزار کروڑ کا گھوٹالہ ؟ حکومت کی بدعنوانیاں بے نقاب
حیدرآباد۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس حکومت میں کابینہ کے فیصلے اسکیمات کے لئے ہونے چاہئے تاہم اسکامس اور کمیشن کے فیصلے کرتے ہوئے ریاست کو معاشی طور پر بدحال بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں برقی اسکام کو اہمیت دی گئی ہے۔ کانگریس حکومت پوری طرح بدعنوانیوں میں تبدیل ہوگئی ہے۔ صرف ایک راما گنڈم پراجکٹ میں 5 تا 6 ہزار کروڑ روپے کا کمیشن حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ کابینہ کے اجلاس عوامی مسائل پر گفتگو کے لئے نہیں بلکہ وزرا میں کمیشن تقسیم کرنے کا جائزہ لینے کے لئے منعقد ہو رہے ہیں۔ ہریش راؤ نے این ٹی پی سی معاہدے پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کے کئے گئے ریمارکس کی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راما گنڈم میں 800 میگاواٹ کا پراجکٹ فی یونٹ 8 روپے کے حساب سے 10,880 کروڑ خرچ ہونے کا دعوی کیا گیا تھا۔ اب پراجکٹ کی تکمیل تک اس کے مصارف بڑھ کر 15 ہزار کروڑ تک پہنچنے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ ماضی میں چیف منسٹر نے تھرمل پاور پلانٹس کی مخالفت کی تھی۔ اب تھرمل پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی تین تھرمل پاور پلانٹس پالوانچہ، راماگنڈم اور متکل میں 800 میگا واٹس کے حساب 2400 میگاواٹ پاور پلانٹس لگارہے ہیں جس پر تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے کے مصارف ہیں۔ جن میں سے 40 ہزار کروڑ روپے قرض اور 10 ہزار کروڑ روپے ریاستی حکومت کے حصے میں ہوں گے۔ ریاست میں فیس ریمبرسمنٹ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اسکالرشپ ملازمین کے ڈی اے جاری کرنے کے لئے حکومت کے سرکاری خزانے میں فنڈس نہیں ہے۔ یہ 10 ہزار کروڑ روپے کہاں سے لاوگے چیف منسٹر سے استفسار کیا۔ 2
