حیدرآباد ۔7۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ریونت ریڈی کابینہ میں تمام اہم طبقات کو نمائندگی دی گئی لیکن مسلم نمائندگی نہیں ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ریونت ریڈی نے 11 وزراء کے ساتھ حلف لیا اور تمام اہم طبقات کے وزیر شامل کئے گئے لیکن کابینہ میں مسلم چہرہ نہیں ہے۔ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے کانگریس کی کھل کر تائید کی اور پارٹی کے برسر اقتدار آنے میں مسلمانوں کا اہم رول ہے لیکن ایک بھی مسلم امیدوار کے منتخب نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے کابینہ میں مسلم نمائندگی نہیں دی گئی۔ کانگریس کی پہلی کابینہ میں مسلم نمائندگی کی توقع کی جارہی تھی۔ اسمبلی چناؤ میں کانگریس نے 5 مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا لیکن ایک بھی کامیاب نہیں ہوسکے۔ توقع کی جارہی تھی کہ کسی مسلمان کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے بعد میں کونسل میں نمائندگی دی جائے گی لیکن کابینی وزراء کے اعلان کے بعد مسلمان مایوس ہوگئے ۔ کانگریس اعلیٰ کمان نے فیصلہ کیا ہے کہ دوسرے مرحلہ میں مسلمان کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ مزید 6 وزراء کی شمولیت کی گنجائش ہے۔ متحدہ آندھراپردیش اور پھر تلنگانہ میں شائد یہ پہلی کابینہ ہے جس میں ایک بھی مسلم چہرہ شامل نہیں ہے۔ دلت طبقہ کو کانگریس نے غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے بھٹی وکرمارکا کو ڈپٹی چیف منسٹر بنایا ہے اور وہ تلنگانہ کے پہلے دلت ڈپٹی چیف منسٹر ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ میں نمائندگی کے لئے کانگریس کے کئی قائدین ہائی کمان سے نمائندگی کر رہے ہیں۔ پارٹی اور حکومت کی ترجیحات کے اعتبار سے مسلم وزیر کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔