کاشی۔ متھرا تنازعہ کا فیصلہ عدالت کے ذریعہ ہوگا

   

نئی دہلی : بی جے پی نے پیر کو کاشی وشواناتھ مندر ۔ گیان واپی مسجد تنازعہ پر لا آفیشیل بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مسائل کو آئین کے مطابق حل کیا جائے گا اور عدالتوں کے ذریعہ فیصلہ کیا جائے گا۔ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ ثقافتی ترقی کے بارے میں بات کی ہے اور وہ عدالت کے حکم پر مکمل طور پر عمل کرے گی۔ نریندر مودی حکومت کی آٹھویں سالگرہ کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جے پی نڈا نے کہا کہ ہم ہمیشہ ثقافتی ترقی کی بات کرتے رہے ہیں لیکن ان معاملات کو آئین اور عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق نمٹایا جاتا ہے۔ لہٰذا عدالت اور آئین اس پر فیصلہ کرے گا اور بی جے پی اس کی پابندی کرے گی۔ جون 1989 کی پالم پور قرارداد کے بعد بی جے پی نے رام جنم بھومی تحریک شروع کی۔ ایل کے اڈوانی نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے رتھ یاترا کا اعلان کیا تھا کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش پر مندر تعمیر کیا جائے۔ واضح رہیکہ پیر کو یوگی ادتیہ ناتھ نے بی جے پی کی ایک روزہ ریاستی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ کاشی میں کاشی وشواناتھ دھام کے افتتاح کے بعد ہر روز ایک لاکھ عقیدتمند درشن کے لئے کاشی وشواناتھ دھام پہنچ رہے ہیں۔ ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر کے بعد متھرا، ورنداون، وندھیاوا سیٹی دھام، نیمیش دھام جیسی تمام جگہوں پر نئی سج دھج کے ساتھ نظر آرہی ہیں اور ان حالات میں ہم سب کو ایک بار پھر آگے بڑھنا ہے۔ پریس کانفرنس میں بی جے پی صدر نڈا نے کہا کہ بی جے پی ایک مضبوط ملک کی تعمیر میں سب کو ساتھ لیکر چلنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے ان تجاویز کو مسترد کردیا کہ عوام کا ایک حصہ (مسلمان) مودی حکومت میں خود کو الگ تھلگ محسوس کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ’’سب کا ساتھ ، سب کا وشواس، سب کا وشواس‘‘ کے اصول پر کام کرتی ہے۔