کالیشورم پراجیکٹ پرکانگریس کا رویہ افسوسناک : کے پربھاکر

   

Ferty9 Clinic

پراجیکٹ کی کامیابی کی ستائش کے بجائے تنقید کے ذریعہ گمراہ کرنے کی کوشش

حیدرآباد۔/15 جون، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے کالیشورم پراجکٹ پر اپوزیشن کی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ پراجکٹ تلنگانہ کسانوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ پراجکٹ کی تکمیل سے تلنگانہ کو سرسبز و شاداب بنانے میں مدد ملے گی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پربھاکر نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی خصوصی توجہ سے پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل ہوئی ہے اور یہ ملک میں اپنی نوعیت کا منفرد پراجکٹ ہے۔ دنیا بھر میں اس قدر وسیع پراجکٹ کہیں بھی تعمیر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی اس طرح کے پراجکٹس کا کام تو شروع ہوا لیکن ان کی تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس پارٹی کالیشورم کا خیرمقدم کرنے کے بجائے تنقید کے ذریعہ عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ کانگریس کے رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کے پربھاکر نے کہا کہ جگن موہن ریڈی کو کالیشورم کے افتتاح میں شرکت سے منع کرنے کی کوشش کانگریس قائدین کی سازش کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق میں اتم کمار ریڈی نے نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مشن بھگیرتا کے آغاز میں شرکت نہ کرنے کی خواہش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اپوزیشن کے موقف کی کانگریس قائدین توہین کررہے ہیں ان کی سرگرمیوں سے ملک بھر میں تلنگانہ کی اپوزیشن کے بارے میں غلط پیام جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹس کی تعمیر کیلئے اراضی کا حصول ضروری ہوتا ہے اور آسمان پر پراجکٹ تعمیر نہیں ہوتے۔ حکومت نے اراضی سے محروم افراد کو بہتر پیاکیج فراہم کیا اس کے باوجود کانگریس پارٹی حکومت پر الزام تراشی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری سیلم پراجکٹ کی تعمیر کے وقت کانگریس دور حکومت میں اراضی سے محروم افراد سے انصاف نہیں کیا گیا اور وہ آج بھی سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین کو سوائے تنقیدوں کے کچھ نہیں آتا۔ پربھاکر نے سوال کیا کہ جگن موہن ریڈی کو شرکت نہ کرنے کا مشورہ دینے والے کانگریس قائدین کیا نریندر مودی کی حلف برداری تقریب میں سونیا اور راہول گاندھی کی شرکت پر بھی اعتراض کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیا کانگریس پارٹی اپنے کارکنوں سے اپیل کرے گی کہ وہ کالیشورم کے پانی کا استعمال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رویہ میں تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔