کالیشورم کو قومی درجہ دیئے جانے پر اُلجھن برقرار

   

Ferty9 Clinic

مرکز اور ریاست کے متضاد دعوے، وائیٹ پیپر جاری کرنے جیون ریڈی کا مطالبہ

حیدرآباد 3 اگسٹ (سیاست نیوز) کانگریس رکن کونسل جیون ریڈی نے کالیشورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے کے معاملہ میں مرکز اور ریاستی حکومت کے دعوؤں کو مضحکہ خیز قرار دیا اور دونوں کا جھوٹ ثابت کرنے کے لئے وائیٹ پیپر کی اجرائی کی مانگ کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہاکہ کے سی آر حکومت نے مرکز پر الزام عائد کیاکہ وہ تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔ کالیشورم کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے کے لئے نمائندگی کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔ اِس کے جواب میں مرکز نے واضح کردیا کہ آج تک ریاست کی جانب سے اس طرح کی کوئی نمائندگی وصول نہیں ہوئی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے مروجہ طریقہ کار کے مطابق پراجکٹ کو قومی درجہ دینے کے لئے نمائندگی نہیں کی۔ جیون ریڈی نے کہاکہ دونوں میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے اِس کا تصفیہ وائیٹ پیپر کی اجرائی سے ہوگا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ دستاویزی ثبوت کے ساتھ وائیٹ پیپر جاری کرے جس میں یہ واضح کیا جائے کہ کب اور کس سے باقاعدہ نمائندگی کی گئی تھی ورنہ تلنگانہ حکومت عوام کی نظروں میں جھوٹی ثابت ہوگی۔ جیون ریڈی نے کانگریس دور حکومت میں شروع کردہ پرانیہتا چیوڑلہ پراجکٹ کے ڈیزائن کو تبدیل کرتے ہوئے کالیشورم پراجکٹ تیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اصل منصوبہ کے تحت تمڈی ہڈی پراجکٹ سے پانی لفٹ کرنے کی تجویز تھی جس سے سرکاری خزانے پر 50 ہزار کروڑ کا خرچ بچایا جاسکتا تھا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اپنی من مانی اور کالیشورم کو کارنامے کے طور پر پیش کرنے کے لئے عوام پر 50 ہزار کروڑ کا زائد بوجھ عائد کردیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر سابقہ منصوبہ پر عمل کیا جاتا تو 3 سال قبل ہی عوام کو پانی سربراہ کیا جاسکتا تھا لیکن کالیشورم کے نام پر آج تک عوام پانی سے محروم ہیں۔