کاماریڈی میں سیاسی ماحول اچانک کشیدہ

   

وینکٹ رمنا ریڈی اور محمد علی شبیر کے درمیان الزامات و جوابی الزامات کی جنگ
کاماریڈی۔ 21 فبروری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کاماریڈی ضلع ہیڈکوارٹر میں سیاسی ماحول اچانک کشیدہ ہوگیا ہے۔ رکن اسمبلی مسٹروینکٹ رمناریڈی اور کانگریس قائد محمد علی شبیر کے درمیان الزامات اور جوابی چیلنجز کے باعث سیاست گرم ہوگئی سرکاری ڈگری کالج اور ارورہ انجینئرنگ کالج اراضی کے معاملہ پر دونوں جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ جاری ہے۔ اسی پس منظر میں رکن اسمبلی مسٹر وینکٹ رامنا ریڈی نے شبیر علی کو آج صبح سرسوتی شیشو مندر کے میدان میں آکر عوامی مباحثہ کرنے کا چیلنج کیا جس کے بعد کاماریڈی میں کانگریس اور بی آر ایس کارکن سڑکوں پر نکل آئے۔اسی دوران کانگریس قائد سبق سرپنچ پوسانی پیٹ مہندر ریڈی اپنے حامیوں کے ساتھ رکن اسمبلی کے رہائش گاہ کے گھیراؤ کیلئے پہنچے تو پولیس نے انہیں فوری گرفتار کر لیا اور یہاں سے منتقل کردیا لیکن ان کی کار یہیں پر رکی رہی جس پر یہاں موجود بی جے پی کارکنوں نے ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا دیا دراصل رکن اسمبلی کے خلاف محمد علی شبیر نے الزامات عائد کیے تھے اس کا جواب میں رکن اسمبلی نے جوابی حملہ کیا تھا اور دونوں پارٹیوں کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی ۔ اس کے جواب میں رکن اسمبلی نے کل سیشومندر کہ میدان میں آنے کے لیے شبیر علی کو چیلنج کرتے ہوئے تمام ثبوت پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ جواب دیتے ہوئے کانگریس قائدین نے اعلان کیا کہ وہ بھی بحث کے لیے تیار ہیں۔ اس تناظر میں کاماریڈی علاقے میں آج صبح سے ہی کشیدگی پیدا ہو گئی حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس نے رکن اسمبلی کو ان کے مکان میں ہی ہاؤز اریسٹ کر دیا لیکن کانگریس کارکنوں کی بڑی تعداد سے شیشو مندر کے علاقے میں جمع ہونے پر ٹاؤن کانگریس صدر راجو سابقہ صدر نشین بلدیہ کے سرینواس راؤ ارکان بلدیہ سید انور احمد، محمد امجد لائبری چیئرمین اور دیگر کئی کارکنوں کو گرفتار کرتے ہوئے تڑوائی پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا ۔ کاماریڈی میں کانگریس بی جے پی کے درمیان ہوئے واقعے کی اطلاع پر بی جے پی کے ریاستی صدر رام چندر راؤ ، بی جے پی کے اسمبلی فلو لیڈر مہیشور ریڈی ، بی جے پی کے ارکان اسمبلی قانون ساز کونسل کے اراکین کاماریڈی پہنچ گئے۔