کاماریڈی میں میڈیکل کالج کی منظوری کا مطالبہ

   

وعدہ کی تکمیل کرنے چیف منسٹر سے خواہش ، کانگریس قائد محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس

کاماریڈی : سینئر کانگریسی قائد و سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر نے آج صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کاماریڈی کے میڈیکل کالج سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کی منظوری ، پرانہیتا چیوڑلہ پیاکیج نمبر 22 کیلئے 200 کروڑ روپئے منظور کرنے کا مطالبہ کیا ۔ محمد علی شبیر کوویڈ 19 کے باعث فوت ہونے والے کانگریس قائدین کے ارکان خاندان سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت بھی کیا ۔ بعدازاں ضلع کانگریس آفس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نے 2018 ء میں ٹی آرایس امیدوار گمپا گوردھن کو کامیاب بنانے کی خواہش کرتے ہوئے کاماریڈی کیلئے اعلانات کئے تھے ۔ جس میں کاماریڈی کیلئے میڈیکل کالج کی منظوری اور کاماریڈی کو ایریگیشن ہب کی حیثیت سے تبدیل کرنے اور پرانہیتا چیوڑلہ پیاکیج نمبر 22کو مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ان تمام چیزوں کو فراموش کردیا ۔ مسٹر شبیر علی نے کہا کہ چیف منسٹر 20؍ جو ن کو کاماریڈی کا دورہ کررہے ہیں اور اس روز کاماریڈی کے میڈیکل کالج کی منظوری کا اعلان کریں ۔ کاماریڈی میڈیکل کالج منظور کرنے کی صورت میں چیف منسٹر کے اعلان کے مطابق ضلع ہیڈ کوارٹر پرسوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کا کا قیام عمل میں آئے گا اور 500 بستر والا دواخانہ بھی منظور ہوگااور دونوں وعدے مکمل ہوں گے ۔ کاماریڈی کیلئے سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل اور کالج کی بھی سخت ضرورت ہے، اسی طرح کاماریڈی ایریگیشن ہب کی حیثیت سے تبدیل کرنے کا بھی اعلان کیا تھا ان تمام اعلانات کے ثبوت کانگریس پارٹی کے پاس ہے اور چیف منسٹر کے اعلانات کی ریکارڈنگ بھی صحافیوں کو سناتے ہوئے کہا کہ کاماریڈی میں ڈائری ٹکنالوجی کے کورس کا کانگریس کے دور حکومت میں شروع کیا تھا اسے پی جی سنٹر کی حیثیت سے تبدیل کرنے کی سخت ضرورت ہے اور یونیورسٹی کے کورسس میں اضافہ کرنے جنا پلی میں واقع تلنگانہ یونیورسٹی کے کورسس میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا پرانہیتا چیوڑلہ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر اسمبلی میں اس کا تیقن دیتے ہوئے فراموش کردیا اور اس پراجیکٹ کا نام کالیشورم سے جوڑ دیا ۔ پیاکیج نمبر 22 کاماریڈی کیلئے منظور کیا گیا تھا اور اس کا سنگ بنیاد بھی اس وقت کے چیف منسٹر وائی ایس آر نے کاماریڈی میں رکھا تھا لیکن ابھی تک اس کیلئے فنڈس کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی 200 کروڑ روپئے کے تخمینہ ہے لیکن ابھی تک فنڈس منظور نہیں کئے گئے اراضیات کے حصول کیلئے 22 کروڑ روپئے درکار ہے لیکن ابھی تک فنڈس کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کا قیام ، آبی سہولتیں ، ملازمتیں اور فنڈس کی اجرائی کے بنیاد پر ہوا تھا لیکن آبی سہولتیں صرف اور صرف سدی پیٹ کیلئے فراہم کی جارہی ہے اور اضلاع کو فراموش کردیا، فوری پیاکیج نمبر 22 کیلئے فنڈس منظور کرنے کا مطالبہ کیا۔ محمد علی شبیر نے سرکاری اراضیات کی فروختگی پر بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کالیشورم میں کروڑوں روپئے کی دھاندلی کی گئی اور اب دوبارہ اراضیات کو فروخت کے نام پر دھاندلیاں کرنے کے امکانات ہے اگر کوئی اراضیات خریدتا ہے تو بھی کانگریس پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد اسے واپس لے گی ۔ اس موقع پر محمد علی شبیر نے کاماریڈی کے صحافیوں کو ڈبل بیڈ روم فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر ضلع کانگریس صدر کے سرینواس رائو ، پی سی سی سکریٹری گنگادھر ریڈی ، ٹائون کانگریس صدر پی راجو ،ضلع پریشد فلور لیڈر موہن ریڈی ، ارکان بلدیہ سید انور احمد ، محمد اسحاق شیرو ، شیو کمار دیگر بھی موجود تھے ۔