کاماریڈی: کئی تنظیموں کے نمائندوں کی محمد علی شبیر کی تائید کا اعلان

   

چیف منسٹر کے اعلان کے بعد ضلع کے ہر دیہات کا بی آر ایس قائد ایم ایل اے سمجھ رہا ہے ، سابق وزیر کا بیان

کاماریڈی :23؍ اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بی آرایس پارٹی کے سربراہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر رائو گجویل کے ساتھ ساتھ کاماریڈی میں مقابلہ کے اعلان کے بعد عوام میں جوش پایاجارہا ہے ۔ کاماریڈی حلقہ سے تعلق رکھنے والے کئی سنگموں کے نمائندے محمد علی شبیر سے ملاقات کرتے ہوئے تائید کا اعلان کررہے ہیں ۔ دومکنڈہ منڈل کے مختلف طبقات کے سنگموں کے قائدین بی بی پیٹ منڈل کے پلونچہ منڈل سے تعلق رکھنے والے کئی سنگموں کے قائدین مرد و خواتین کے ہمراہ شبیر علی سے ملاقات کرتے ہوئے تائید کا اعلان کررہے ہیں ۔ سینکڑوں افراد نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے تائید کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے شبیر علی نے کہا کہ ناکامی کے خوف کے باعث چیف منسٹر نے کاماریڈی سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے شبیر علی نے کہا کہ کاماریڈی اور گجویل دونوں مقامات سے ناکامی یقینی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال سے چیف منسٹر کاماریڈی کیلئے کیا فنڈس منظور کیا اور کیا ترقیاتی کام انجام دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے اعلان کے بعد ہر دیہات کا بی آرایس قائد اپنے آپ کو ایم ایل اے سمجھ رہا ہے اور عوامی مفادات پر آواز اٹھانے والوں کی آواز کو دبوچنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر چندرشیکھر رائو اپنے آبائی مقامی چنتا مڑکا کے ہر خاندان کو 10لاکھ روپئے دیا تھا اسی طرح کاماریڈی میں بھی ہر خاندان کو 10لاکھ روپئے دینے کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد مقابلہ کریںتو بہتر ہوگا۔ 115 امیدواروں میں مدیراج طبقہ کو نظرا نداز کیا گیا ۔گذشتہ انتخابات میں کئے گئے اعلانات کو فراموش کیا گیا پرانہتیا چیوڑلہ پیاکیج نمبر 20,22 کیلئے 5 کروڑ روپئے دینے کا اور ماسٹر پلان تحریک میں فوت ہونے والے افراد خاندان کو 50 لاکھ روپئے معاوضہ ، کلکٹریٹ کے افتتاح کے موقع پر 120 کروڑ روپئے کے اعلانات کئے گئے تھے اور ابھی تک اس پر کیا ترقی ہوئی ہے اس بارے میں تحقیق کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کاماریڈی میں 24 ہزار ڈبل بیڈ روم کے درخواستیں وصول ہوئی ہے اور 1500 مکانات تعمیر کئے گئے ہیں ان سارے چیزوں پر جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کے بعد انتخابات میں مقابلہ کیا گیا تو بہتر ہوگا۔ اس موقع پر صدر ضلع کانگریس کے سرینواس کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے ۔