لکھنؤ: اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے جمعرات کو 2015 میں مختلف برادریوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران پھوٹ پڑنے والے فسادات اور آتشزنی کے واقعہ کے سلسلے میں 31 ملزمان کے خلاف زیر التواء فوجداری مقدمہ کو واپس لینے کا حکم دیا۔ افسران نے یہ معلومات فراہم کیں۔ کانپور کے فاضل گنج تھانہ علاقہ کے درشن پوروا میں ایک مذہبی پوسٹر کی مبینہ بے عزتی کی وجہ سے دو برادریوں کے لوگوں نے پتھراؤ کیا تھا اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ کانپور کے فسادات کے وقت ریاست میں ایس پی کی حکومت تھی۔درشن پوروا پولیس چوکی کے اس وقت کے انچارج سب انسپکٹر برجیش کمار شکلا نے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔