کانگریس 20 سے کم نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی: کے سی آر

   

چیف منسٹر عہدہ کے 15 دعویدار، کانگریس کے وعدوں پر بھروسہ تلنگانہ کے مستقبل کیلئے خطرہ ، انتخابی جلسوں سے خطاب

حیدرآباد۔ 22 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ کانگریس پارٹی 20 اسمبلی حلقوں پر بھی کامیابی حاصل نہیں کررہی ہے مگر اس کے 15 قائدین چیف منسٹر کے دعویدار ہیں۔ کانگریس کامیاب ہی نہیں ہوگی تو ریونت ریڈی کیسے چیف منسٹر بن پائیں گے۔ تاحال وہ 74 تا 75 اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی انتخابی مہم چلا چکے ہیں، ہر طرف گلابی آندھی چل رہی ہے جس میں کانگریس اور بی جے پی بہہ جائیں گے۔ کانگریس کی کوئی گیارنٹی نہیں ہے مگر بی آر ایس منشور کی وہ (چیف منسٹر کے سی آر) گیارنٹی ہے۔ مختلف اسمبلی حلقوں میں بی آر ایس کے آشیرواد جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ کانگریس کے جھووٹے وعدوں پر بھروسہ کیا گیا تو ریاست کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ تھوڑی سی بھی غفلت کرتے ہوئے کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو ریاست کی تیز رفتار ترقی کو بریک لگ جائے گا۔ فلاحی اسکیمات راستہ بھٹک جائیں گی۔ دلالوں اور پٹواریوں کے دور کا احیا ہو جائے گا۔ بی آر ایس کو تیسری مرتبہ کامیاب بنایا گیا تو ترقیاتی کام مزید تیز ہو جائیں گے۔ فلاحی اسکیمات جاری رہنے کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ بی جے پی نے پکوان گیس کی قیمتوں کو بڑھاکر 1100 روپے کردیا اس کو بی آر ایس حکومت گھٹاکر 400 روپے کردے گی۔ ہر سلنڈر پر 700 روپے کی کمی ہوگی۔ آسرا پنشن 5 ہزار ہو جائے گا۔ ہیلت اسکیم کو 15 لاکھ روپے تک توسیع دی جائے گی۔ ہر خاتون کو ماہانہ 3 ہزار روپے معاوضہ حاصل ہوگا۔ ریتو بندھو اسکیم 15 ہزار روپے ہو جائے گی۔ غریب عوام کو 5 لاکھ روپے تک مفت لائف انشورنس حاصل ہوگا۔ راشن شاپس سے غریب عوام کو باریک چاول سربراہ ہوگا۔ زرعی شعبہ کو جہاں 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ ہوگی وہیں ریاست کے عوام کو 24 گھنٹے معیاری برقی سربراہ ہوگی۔ اس کے علاوہ مختلف فلاحی اسکیمات سے ریاست کے ہر گھر کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ ریاست میں امن و امان خوشحالی ہے۔ نہ خشک سالی ہے اور نہ ہی کبھی فسادات ہوئے جس کے بعد کرفیو نافذ کرنے کی نوبت آئی ہے۔ تہواروں اور عیدین سرکاری طور پر منائی جارہی ہیں۔ تلنگانہ کے سرکاری ملازمین سارے ملک میں سب سے زیادہ تنخواہیں حاصل کررہے ہیں۔ 165 لاکھ سے زیادہ سرکاری اور تقریباً 25 لاکھ خانگی شعبوں میں ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔ بڑے پیمانے پر آبپاشی پراجکٹس تعمیر کی گئی ہیں۔ تالابوں کے احیا سے زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کا مستقبل اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔ ایک طرف روشنی ہے دوسری طرف آندھرا ہے چھوٹی سی بھی غلطی سارے عوام کو مشکلات سے دوچار کردے گی۔ بعد میں ہاتھ ملنے سے بہتر ہے 30 نومبر کو بی آر ایس کے امیدواروں کو ووٹ دے کر بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ اپنا اور اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ کرلیں۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست جب تشکیل پایا تھا تب 2014 میں تلنگانہ کی فی کس آمدنی ایک لاکھ سے کم تھی۔ اب بڑھ کر 3.18 لاکھ ہوگئی ہے جو ملک میں سرفہرست ہے۔ 2014 میں فی کس برقی استعمال 1100 یونٹس تھا اب بڑھ کر 2200 وینٹس ہوگیا ہے۔ کانگریس کے دور حکومت کے دوران دیہی علاقوں میں خشک سالی اور شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت تھی جس کا 10 سال میں خاتمہ کردیا گیا ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں عوام کو تمام بنیادی سہولتیں میسر ہو رہی ہیں۔ کانگریس پارٹی اور ان کے قائدین کا کوئی ویژن نہیں ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کی کامیاب تحریک چلانے کے بعد 10 سال میں تلنگانہ کو ہر معاملہ میں ملک بھر میں سرفہرست مقام تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ریاست کے عوام سنہرے تلنگانہ میں زندگی گذاررہے ہیں۔ 10 سال میں بہت کچھ کیا گیا ہے۔ مزید بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ن