کانگریس اقتدار ریاستوں میں این آر سی پر عمل نہ کرنے پر زور

   

قانون کے خلاف احتجاج کیا جائے ، جنتادل یونائٹیڈ قائد پرشانت کشور کا بیان
حیدرآباد۔25ڈسمبر(سیاست نیوز) جنتا دل یونائیٹڈ قائد مسٹر پرشانت کشور نے راہول گاندھی سے خواہش کی کہ وہ بھی شہریت ترمیم بل کے خلاف عوامی تحریک کا حصہ بنتے ہوئے کانگریس اقتدار والی ریاستوںمیں اس قانون کے خلاف تحریک میں شدت پیدا کرنے کی ہدایت جاری کریں۔کانگریس کی جانب سے شہریت ترمیم بل کے خلاف ایک روزہ ستیہ گرہ کے بعد مسٹر پرشانت کشور نے ٹوئیٹر کے ذریعہ اس مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو ملک گیر سطح پر کانگریس برسراقتدار ریاستوں میں این آر سی پر عمل آوری نہ کرنے کا باضابطہ اعلان کرنا چاہئے ۔ انہو ں نے راہول گاندھی کے توسط سے یہ بات کانگریس انچارج صدر مسز سونیا گاندھی سے خواہش کی کہ وہ پارٹی کی صدر کی حیثیت سے اس بات کا باضابطہ اعلان کریں اور ملک میں کانگریس کی برسراقتدار ریاستوں میں این آر سی کا نفاذ نہ کرنے کا اعلان کریں۔ ملک میں حکومت کی جانب سے شہریت ترمیم قانون کی منظوری کے بعد ریاستوں کی جانب سے این آرسی پر عمل آوری نہ کرنے کے اعلانات کے دوران تمام سیاسی جماعتو ںکی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس قانون کے ذریعہ دستور کوچیالنج کیا ہے۔ ریاستی حکومتوں کی جانب سے کئے جانے والے اعلانات کے دوران مسٹر پرشانت کشور نے کانگریس پارٹی کو مشورہ دیا اور خواہش کی کہ پارٹی این آر سی کی نہ صرف مخالفت کرے بلکہ کانگریس برسراقتدار ریاستوں میں این آر سی کے نفاذ سے انکار کا بھی پارٹی کی سطح پر فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کا واضح اعلان کردے۔ پرشانت کشور کے اس ٹوئیٹ پر مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں اور ان سے جنتادل اور نتیش کمار کے فیصلہ کے متعلق دریافت کیا جا رہاہے جس پر انہوں نے واضح کیا کہ جس دن یہ قانون منظور کیا گیا اسی دن سے وہ اس کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ یہ مسئلہ کسی سیاسی جماعت یا طبقہ کا نہیں ہے بلکہ حکومت نے اس فیصلہ کے ذریعہ دستور کی روح کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے اور عوام کی بڑی تعداد اس قانون کی مخالفت کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں حکومت کی سرپرستی میں گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جا رہاہے ۔ مسٹر پرشانت کشور کے اس تبصرہ پر کانگریس قائدین کا کہناہے کہ پارٹی نے جب فیصلہ کیا ہے اور کسی قانون کے خلاف ستیہ گرہ کیا ہے تو یہ بات واضح ہے کہ پارٹی کے تمام وزرائے اعلی خواہ وہ کسی ریاست کے ہوں پارٹی کے اس فیصلہ کے خلاف نہیں ہوں گے بلکہ پارٹی کے وزرائے اعلی نے خود اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ ان ریاستوں میں این آر سی کو نافذ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی یہ سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔