بی آر ایس کے وعدوں سے 52 ہزار کروڑ اور کانگریس کے وعدووں سے 68,652 ہزار کروڑ کا سرکاری خزانہ پر اضافی بوجھ
تلنگانہ کی مالی صورتحال، آمدنی، قرض، سود اور سبسیڈی کی ادائیگی کا جائزہ لئے بغیر اسکیمات کے اعلانات
حیدرآباد۔ 18 اکتوبر (سیاست نیوز) انتخابات میں کسی بھی طرح اقتدار حاصل کرنے حکمران بی آر ایس اور اپوزیشن کانگریس پارٹی عوام سے وعدے کرنے کے معاملے میں ایک دوسرے سے مسابقت کررہے ہیں۔ ان وعدوں پر عمل آوری کیلئے ریاست کی مالی صورتحال، حقیقی آمدنی اور آمدنی میں اضافہ کرنے کی راہیں کیا ہوسکتی ہیں اس کا جائزہ لئے بغیر دونوں جماعتیں ووٹرس کو متاثر کرنے کیلئے وعدوں کی بوچھار کررہے ہیں۔ اقتدار حاصل ہونے پر کہ ان وعدوں پر عمل آوری ممکن ہوگی‘ اس کا بھی خیال نہیں رکھا جارہا ہے۔ بی آر ایس اس وقت اقتدار میں ہے۔ ماضی میں کئے گئے وعدوں پر مکمل عمل نہ کرنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔ حکومت کی آمدنی توقع کے مطابق نہیں ہے۔ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کے لئے قرض حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ قیمتی سرکاری اراضیات فروخت کی جارہی ہیں۔ ریاست کی مالی حالت مستحکم نہ ہونے کے باوجود بی آر ایس اور کانگریس عوام کے سامنے بڑے بڑے وعدے کررہے ہیں۔ بی آر ایس نے حال ہی میں اپنا انتخابی منشور جاری کیا ہے۔ رائے دہندوں کو راغب کرنے کے لئے غریب عوام کو 5 لاکھ روپے کا انشورنس، آسرا پنشن 5016 روپے، گیس سلینڈر 400 روپے، ریتو بندھو اسکیم کی امداد 16,000 روپے اور اہل و مستحق خواتین کو 3000 روپے پنشن کے علاوہ دوسرے وعدے بھی کئے گئے ہیں۔ ان میں 5 لاکھ روپے کا انشورنس، 400 روپے گیس سلینڈر اور خواتین کو 3000 روپے کا وظیفہ جیسی اسکیمات نئی ہیں۔ ماباقی دیگر اسکیمات پرانی ہیں۔ اگر بی آر ایس ریاست میں مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار میں آتی ہے تو ان تمام اسکیمات پر عمل کرنے کے لئے سرکاری خزانے پر 52,461 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ عائد ہوگا۔ دوسری جانب کانگریس نے بھی بی آر ایس کو ٹکر دینے والے وعدے عوام سے کئے ہیں۔ 2 لاکھ روپے تک زرعی قرضوں کی معافی‘گروہا جیوتی اسکیم کے تحت 200 یونٹس تک مفت برقی، 500 روپے گیس سلینڈر ، 4000 روپے بیروزگاری بھتہ، ریتو بھروسہ اسکیم کے تحت ایک ایکڑ اراضی کو 15 ہزار روپے کی امداد، کسان مزدوروں کو 12 ہزار روپے تک مالی امداد، ذاتی اراضی رکھنے والے غریب عوام کو مکان کی تعمیر کے لئے 5 لاکھ روپے معاوضہ کی ادائیگی۔ اس کے علاوہ پنشن میں اضافہ جیسے وعدے شامل ہیں۔ اگر کانگریس پارٹی حکومت تشکیل دیتی ہے تو ان وعدوں پر عمل آوری کے لئے 68,652 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ یہی نہیں پرانی اسکیمات، ملازمین کی تنخواہیں۔ ریٹائرڈ ملازمین کا پنشن، سبسیڈی اور قرضوں پر سود وغیرہ پر بھی عمل کرنا لازمی ہے۔ حکومت نے رواں مالیاتی سال 2023-24 کے لئے 2,90,396 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ محکمہ فینانس نے اندازہ لگایا ہیکہ تمام شعبوں کی مجموعی 2,59,861 کروڑ روپے ہوگی۔ اس میں اگست تک صرف 99,106 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔ گزشتہ 5 سال کے دوران ریاست کی اوسط آمدنی 1.51 لاکھ کروڑ روپے رہی ہے۔ ان وعدوں پر عمل آوری کے لئے ریاست کا بجٹ 3.50 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہونے پر ہی ان وعدوں پر عمل آوری ممکن ہے اور ساتھ ہی سالانہ آمدنی 2 لاکھ سے زیادہ ہونا ہوگا۔ ن