ممبئی ۔ شیوسینا نے آج مرکز کی بی جے پی حکومت پر طنز کیا اور کہا کہ جو لوگ قوم کی تعمیر میں کانگریس کے رول پر مسلسل سوال کرتے ہیں انہیں 1971 کی جنگ کے تاریخی واقعات کا مشاہدہ کرنا چاہئے ۔ اسی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان کو تقسیم کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی تشکیل ہوئی ہے ۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار ’ سامنا ‘ کے اداریہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ موجودہ وقتوں میں چین اور پاکستان کی افواج ہندوستان کے ساتھ سرحد پر مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ اداریہ میں تحریر کیا گیا کہ چین لداخ سے دستبردار نہیں ہو رہا ہے جبکہ پاکستان جموںو کشمیر میں لائین آف کنٹرول پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا جا رہا ہے ۔ پاکستان کو پچاس سال قبل ہی سبق سکھایا گیا تھا ۔ تاہم آج کی صورتحال کیا ہے ؟ ۔ کشمیر کے دفعہ 370 کو حذف کرکے ایک سال سے زیادہ کا وقت ہوگیا ہے لیکن جموںو کشمیر میں کوئی امن قائم نہیں ہوا ہے ۔ اخبار نے تحریر کیا ہے کہ 1971 کی جنگ انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے اور اس سے ہمارے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ جاریہ سال پاکستان پر ہندوستان کی فتح کے 50 سال مکمل ہو رہے ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اندرا گاندھی کی سفارتی مہم اور مدبرانہ فیصلوں کے تاریخی واقعات کو یاد کریں۔ انہیں کے نتیجہ میں امریکہ کا بحری بیڑہ آنے سے قبل ہی پاکستان شکست سے دوچار ہوگیا تھا ۔ واضح رہے کہ کانگریس پارٹی مہاراشٹرا میں شیوسینا حکومت کی حلیف ہے ۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی فوج نے فیلڈ مارشل سام مانک شا کی قیادت میں پاکستانی افواج پر حملہ کیا اور انہیں 13 دن میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا ۔ یہ سوال کرنا کہ کانگریس نے 70 سال میں کیا کیا ہے بچکانہ بات ہے ۔
