کانگریس قائدین کی تلنگانہ جنا سمیتی صدر کودنڈا رام سے ملاقات

   

حضور نگر میں تائید کی اپیل، سرکاری مشنری کا بیجا استعمال
حیدرآباد۔یکم اکتوبر ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ایک وفد نے آج تلنگانہ جنا سمیتی کے صدر پروفیسر کودنڈا رام سے ملاقات کی اور حضور نگر حلقہ کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کی تائید کی اپیل کی ۔ سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا وشویشور ریڈی ، سابق وزیر پرساد کمار اور پردیش کانگریس کے خازن جی نارائن ریڈی نے کودنڈا رام اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کرتے ہوئے حضور آباد کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی ڈکٹیٹرشپ اور عوام دشمن پالیسیوں سے مقابلہ کیلئے کانگریس کی تائید ضروری ہے۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وشویشور ریڈی نے امید ظاہر کی کہ تلنگانہ جنا سمیتی کانگریس کی تائید کرے گی ۔ حضور نگر کا چناؤ کانگریس اور ٹی آر ایس کے لئے وقار کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ دونوں پارٹیاں اپوزیشن کی تائید حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹی آر ایس نے سی پی آئی کی تائید حاصل کرنے مخدوم بھون پہنچ کر اس کے قائدین سے ملاقات کی ۔ کانگریس بھی سی پی آئی کی تائید کے بارے میں پرامید ہے۔ اسی دوران پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ تائید کے مسئلہ پر پارٹی کی عاملہ میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے خلاف جدوجہد میں تلنگانہ جنا سمیتی برابر شریک ہے۔ کانگریس کے ساتھ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں مل کر کام کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عاملہ کے فیصلہ سے کانگریس قیادت کو واقف کرایا جائے گا ۔ انہوں نے حضور نگر میں سرکاری مشنری کے بیجا استعمال کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے سرپنچوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ سرپنچ فورم کے فاونڈر پریسیڈنٹ بھومنا یادو کو گرفتار کر کے نرمل منتقل کیا گیا اور وہاں ان پر مقدمہ درج کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن نے جب اس بارے میں کلکٹر سے رپورٹ طلب کی تو کلکٹر نے گمراہ کن رپورٹ پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جنا سمیتی حکومت کی انتخابی بے قاعدگیوں کے خلاف الیکشن کمیشن سے نمائندگی کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حضور نگر میں پارٹی کی مخالف حکومت مہم کے لائحہ عمل کا جلد اعلان کیا جائے گا۔