کانگریس ورکنگ کمیٹی میں تلگو ریاستوں سے 6 قائدین کی شمولیت

   

تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی، دامودھر راج نرسمہا اور ومشی چند ریڈی کو نمائندگی

حیدرآباد۔/20اگسٹ، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کے اعلیٰ اختیاری ادارہ ورکنگ کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کردیا گیا۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے ورکنگ کمیٹی کے ناموں کو منظوری دے دی۔ ورکنگ کمیٹی ارکان کے طور پر 39 قائدین کا انتخاب کیا گیا جبکہ18 مستقل مدعوئین رہیں گے۔ 14 مختلف ریاستوں کے انچارج جنرل سکریٹریز کو بھی مستقل مدعوئین میں شامل کیا گیا ہے۔ خصوصی مدعوئین کے طور پر 9 قائدین کو منتخب کیا گیا جبکہ 4 قائدین بہ اعتبار عہدہ ورکنگ کمیٹی کے ارکان رہیں گے۔ تلنگانہ میں جاریہ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر امید کی جارہی تھی کہ تلنگانہ کے قائدین کو زیادہ نمائندگی دی جائے گی لیکن ورکنگ کمیٹی میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ تلنگانہ سے زیادہ آندھرا پردیش کو نمائندگی دی گئی۔ مجموعی طور پر دونوں تلگو ریاستوں سے 6 قائدین کو شامل کیا گیا جن میں آندھرا پردیش کے 4 اور تلنگانہ سے صرف 2 قائدین کو شامل کیا گیا۔ ورکنگ کمیٹی کے 39 ارکان میں آندھرا پردیش کے سابق وزیر این رگھویرا ریڈی کو منتخب کیا گیا۔ 39 ارکان میں تلنگانہ سے ایک بھی نہیں ہے۔ ورکنگ کمیٹی کے 18 مستقل مدعوئین میں آندھرا پردیش سے 2 اور تلنگانہ سے ایک نمائندگی دی گئی۔ آندھرا پردیش سے ٹی سبی رام ریڈی اور کے راجو کو شامل کیا گیا جبکہ تلنگانہ سے سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا کو نمائندگی دی گئی۔ 9 خصوصی مدعوئین میں تلگو ریاستوں سے دو قائدین شامل کئے گئے۔آندھرا پردیش سے سابق مرکزی پلم راجو اور تلنگانہ سے ومشی چند ریڈی کو شامل کیا گیا۔ ومشی چند ریڈی 2014 میں کلواکرتی اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے تھے۔ انہیں 2021 میں اے آئی سی سی سکریٹری انچارج تنظیمی امور مقرر کیا گیا۔ ورکنگ کمیٹی کے اعلان کے بعد پارٹی کے کئی قائدین میں مایوسی دیکھی جارہی ہے۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ اور رکن اسمبلی بی سیتکا کے علاوہ وسنت کمار اہم دعویداروں میں شامل تھے۔ اسی دوران صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے دامودھر راج نرسمہا اور ومشی چند ریڈی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے صدر کانگریس ملکارجن کھرگے سے اظہار تشکر کیا۔