ریاست کی بدانتظامی ملک میں عام ، کے سی آر کو بے دخل کرنے چیف منسٹر کے بیان پر سابق ریاستی وزیر کا شدید ردعمل
نظام آباد: 16/فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)سابق وزیر و رکن اسمبلی بالکنڈہ ویمولا پرشانت ریڈی نے ریونت ریڈی کی جانب سے کے سی آر کے خلاف دیے گئے بیان پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی ذہنی بیماری کا شکار ہیں اس کے علاوہ عوام انہیں چیف منسٹر کی حیثیت سے تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی اپنی ہی پارٹی کے قائدین وزیر اعلیٰ کا نام بھول رہے ہیں۔مسٹر پرشانت ریڈی نے کہا کہ جب میڈیا والے ٹی وی پر ریونت ریڈی کو دیکھتے ہیں اور ان کے سامنے مائیک رکھتے ہیں تو لوگ انہیں ناقابلِ سماعت باتیں کہتے ہیں۔وہ اس دباؤ میں ہوش کھو بیٹھے ہیں اور بے ترتیب گفتگو کر رہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ کے سی آر کو تلنگانہ سے بے دخل کریں گے؟ کیوں بے دخل کریں گے؟تلنگانہ ریاست کا وجود کے سی آر ہے۔جب کوئی سہارا نہ تھا تو انہوں نے اکیلے 15 سال طویل جدوجہد کی۔ کئی عہدوں کو قربان کیا۔ موت کے منہ میں جا کر تلنگانہ ریاست حاصل کی۔یہ حقیقت بچوں سے لے کر بزرگوں تک سب جانتے ہیں۔ریونت ریڈی کی تاریخ سب کو معلوم ہے۔یہ وہی شخص ہے جس نے ’’جئے تلنگانہ ‘‘کہنے والوں پر بندوقیں تانی تھیں۔اگر کے سی آر تلنگانہ نہ بناتے تو کیا ریونت ریڈی وزیر اعلیٰ بنتے؟اگر کے سی آر تلنگانہ نہ بناتے تو ریونت ریڈی آندھرائی حکمرانوں کی خوشنودی میں زندگی بسر کر رہے ہوتے۔ریونت ریڈی کا ریکارڈ ”نوٹ کے بدلے ووٹ” کیس میں پکڑے گئے مجرم جیسا ہے اور یہ وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے وقار کے مطابق برتاؤ نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے 100 دنوں میں 420 وعدے کیے اور کہا کہ وہ ان پر عمل کریں گے۔ لیکن 14 مہینے گزرنے کے باوجود ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ کے سی آر کو بے دخل کرنا ریونت ریڈی کا ایک خواب ہے لیکن تلنگانہ کے عوام انہیں ہمیشہ کے لیے بے دخل کریں گے ۔ وہ دن قریب ہیں۔پرشانت ریڈی نے کہا کہ تمہاری حکومت کی بدانتظامی پورے ملک میں عام ہو چکی ہے۔مہاراشٹرا اور دہلی میں کانگریس کی شکست اس کا ثبوت ہے۔جلد ہی تمہاری اپنی پارٹی بھی تمہیں بے دخل کر دے گی۔ریونت ریڈی کم از کم اب تو اپنی زبان قابو پر رکھیںاور عوام سے کیے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیاکانگریس کی جانب سے کی گئی ذات پات کی مردم شماری ایک مذاق قرار دیا اور کہا کہ عوام کو حکومت پر سے بھروسہ اٹھ گیا ہے اسی لیے وہ کانگریس کی جانب سے کیے گئے سروے میں شامل نہیں ہوئے۔جو لوگ شامل ہوئے انہوں نے بھی صحیح تفصیلات نہیں درج کروائی انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی جانب سے کی گئی مکمل مردم شماری کے وقت تم نے اس کی مخالفت کی تھی کیا تم وہ باتیں بھول گئے؟تب تم نے کہا تھا کہ گھر گھر جا کر نجی تفصیلات لینا غلط ہے۔اور اب تم کس منہ سے وہی معلومات حاصل کر رہے ہو۔ریونت ریڈی حکومت کی جانب سے کی گئی مردم شماری میں پوچھا کہ بیل یا بکری ہیں اس لیئے عوام مردم شماری میں 30 فیصد عوام شریک نہیں ہوئے۔تمام بی سی تنظیمیں تمہارے سروے کی مخالفت کر رہی ہیں اور پوچھ رہی ہیں کہ بی سی برادری کی تعداد کم کیوں ظاہر کی گئی؟یہاں تک کہ کانگریس کے عوامی نمائندے بھی اس مردم شماری کو غلط قرار دے رہے ہیں۔کچھ تو کہہ رہے ہیں کہ اس مردم شماری کے اعداد و شمار کو جلا دینا چاہیے۔بی سی عوام باشعور ہو چکے ہیں۔تمہیں عوام سے معافی مانگ کر غلط سوالات اس میں سے ہٹانے اور دوبارہ مردم شماری کروانی ہوگا تب ہی عوام کی تائید حاصل ہوگی۔ مسٹر پرشانت ریڈی نے خواہش کی کہ کے سی آر، کے ٹی آر اور ہریش راؤ پر بے بنیاد الزامات لگانا بند کریں اور اپنی حرکتوں سے باز آنے کی خواہش کی۔