کانگریس کا مسلم دلتوں کو ریزرویشن نہ دینا غیر آئینی:پیس پارٹی

   

پرتاپ گڑھ: آئین ہند میں سبھی شہریوں کو مساوی حقوق ،اور سبھی مذاہب کو آزادی حاصل ہے ،مگر کانگریس نے مذہب کی بنیاد پر 10/اگست 1950 کو آئین کے خلاف دلت مسلمانوں کا ریزرویشن ختم کر ،ان کے سماج کی ترقی پر قدغن لگانے کا کام کیا۔ آج وہی کانگریس آئین بچانے کی بات کر رہی ہے اور آئین کے نام پر مسلم سماج کا ووٹ حاصل کرتی ہے ،مگر مسلم سماج یہ نہیں سمجھ پا رہا ہے کہ جس آئین کو بچانے کی بات کی جارہی ہے ،اسی آئین کے خلاف تو کانگریس نے دلت مسلمانوں کا ریزرویشن چھین لیا،جس کے سبب مسلم سماج آبادی کے تناسب میں ایک فیصد بھی سرکاری ملازمت میں نہیں ہے ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن آج یہاں شہر کے آزاد نگر واقع پیس پارٹی کے ضلع دفتر کا افتتاح کرنے کے بعد پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے مذکورہ خیالات کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ آئین بچانے کی بات کرنے والی نام نہاد سیکولر پارٹیاں جو مسلم سماج کا ووٹ لینے کے لئے آئین بچانے کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کرتی ہیں،کیا انہوں نے کبھی دلت مسلمانوں کے ریزرویشن کی آواز اٹھائی ہے ،اس کو مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا ۔سماج وادی پارٹی نے اپنے دورے اقتدار میں پسماندہ طبقات کو دلت ذات میں شامل کرنے کی تجاویز پاس کی تھی ،مگر اس میں دلت مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔آئین کی دفعہ 14 سے 21 میں کہا گیا ہے کہ کسی شہری سے مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہ کیا جائے ،مگر کانگریس نے امتیاز و تعصب کی بنیاد پر ہندو دلتوں ،سکھ و بودھوں کو تو ریزرویشن دیا ،مگر دلت مسلم سماج کو ریزرویشن سے باہر کر دیا۔انہوں نے کہا کہ رنگناتھ مشرا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں واضح کر دیا ہے کی مسلم سماج کی حالت دلتوں سے بھی ابتر ہے ،پھر بھی اس پر مسلم سماج کا ووٹ حاصل کرنے والی پارٹیاں غور فکر نہیں کرتی کہ دلت مسلمانوں کو بھی ریزرویشن دیا جائے ۔ملک میں 20 فیصد مسلم آبادی میں نصف آبادی دلت مسلمانوں کی ہے ،مگر وہ آئینی حقوق سے محروم ہیں ۔
ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے خقوق کے لئے لڑنا ،اور سمجھنا ہوگا کہ جو نام نہاد سیکولر پارٹیاں ان کا ووٹ حاصل کر رہی ہیں ،وہ ان کی ہمدرد نہیں ،بلکہ مخالف ہیں ۔انہوں نے اس ضمن میں مولانا سعید الدین قاسمی کو پیس پارٹی کا ضلع انچارج بنائے جانے کا اعلان کیا ۔پروگرام کو کسان پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر بی ایل ورما و پیس پارٹی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر عبدالرشید انصاری وغیرہ نے خطاب کیا ۔نظامت کے فرائض مولانا سعید الدین قاسمی نے انجام دیا۔ اس موقع پر خصوصی طور سے عبدالقادر انصاری ،معین الدین انصاری، حاجی شاہ زماں ،حکیم بدرالزماں ،عبدالعلیم ،عاقل رشید وغیرہ کثیر تعداد میں لوگ موجود رہے ۔