بی جے پی کی نئی حکمت عملی ۔مخلوط حکومت بنانے کی سمت منصوبہ بندی
حیدرآباد 20 اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی جے پی کو شکست کا یقین ہونے کے بعد پارٹی اس کوشش میں مصروف ہے کہ ریاست میں کم از کم معلق نتائج کو یقینی بنایا جائے اور کانگریس اور بی آر ایس کو سادہ اکثریت سے روکا جائے ۔ تلنگانہ میں بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے اور دوسرے نمبر پرآنے کی مکمل کوششوں کے بعد یہ اعتراف شروع کردیا ہے کہ پارٹی کو 10 تا15 نشستوں سے زیادہ پر کامیابی نہیں ملے گی۔ ذرائع کے مطابق پارٹی نے تلنگانہ کے زمینی حقائق کا جائزہ لینے کے بعد تلنگانہ کے کئی قائدین کو دیگر ریاستوں میں انتخابی مہم کی ذمہ داری تفویض کی ہے ۔ بی جے پی تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار سے اور بی آر ایس کو سادہ اکثریت سے روکنے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے ۔ تلنگانہ میں جہاں 119 حلقہ جات اسمبلی ہیں ان میں سادہ اکثریت کیلئے کم از کم 60نشستوں پر کامیابی ضروری ہے اور بی جے پی 10تا 15نشستوں پر کامیابی کے نشانہ کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے جبکہ مجلس کو 5تا7 نشستوں پر کامیابی کے امکانات رہے ہیں اگر مجلس کو مکمل 7 نشستوں پر کامیابی ملتی ہے اور بی جے پی 14 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو 22 نشستیں کم ہوجائیں گی اور 98 نشستیں رہ جائیں گی اور بی آر ایس و بی جے پی کے درمیان اگر انہیں مساوی تقسیم کردیا جائے تو دونوں کو 49 نشستیں حاصل ہوں گی اور تلنگانہ میں بی آر ایس اور مجلس کے علاوہ کوئی سیاسی اتحاد نہ ہونے کے نتیجہ میں بی آر ایس مجلس کے تمام 7 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل کرکے سب سے بڑی پارٹی بن سکتی ہے لیکن سادہ اکثریت کے کوئی امکان نہیں ہے۔ اس طرح کے معلق نتائج کی صورت میں جو حالات پیدا ہوں گے ان میں گورنر کی جانب سے سب سے بڑی پارٹی کو تشکیل حکومت کیلئے مدعو کیا جائے گا اور اندرون 10 یوم اکثریت ثابت کرنے مہلت دی جائے گی اور اگر ایسا کرنے میں پارٹی ناکام ہوتی ہے تو گورنر اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ دوبارہ انتخابات کی سفارش کی مجاز ہو جائیں گی۔ ریاست میں اگر از سرنو انتخابات ہوتے ہیں تو وہ عام انتخابات یعنی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ منعقد کئے جاسکتے ہیں۔ بی جے پی ان امور کو نظر میں رکھتے ہوئے تلنگانہ میں معلق نتائج کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے جبکہ پارٹی کو احساس ہونے لگا ہے کہ مخالف حکومت ووٹ متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں جانے لگا ہے اور مختلف طبقات کانگریس کی حمایت کر رہے ہیں۔ تلنگانہ انتخابات کے نتائج پر جاری قیاس آرائیوں کے دوران یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ریاست میں سہ رخی مقابلہ باقی نہیں رہا بلکہ ریاست کی 95 فیصد نشستوں پر کانگریس اور بھارت راشٹرسمیتی کے درمیان مقابلہ ہے۔