30 لاکھ بیروزگار نوجوان ، کے سی آر کو دولت اور شراب پر بھروسہ، ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/17 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے 30 لاکھ بیروزگار نوجوانوں سے اپیل کی کہ اسمبلی انتخابات میں اپنے افراد خاندان کے 90 لاکھ ووٹ کانگریس کے حق میں استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ کانگریس پارٹی 90 اسمبلی حلقوں پر کامیابی کے ذریعہ حکومت تشکیل دے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے بیروزگار نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ میں اندراماں راجیم کے آغاز کیلئے مزید 45 دن تک انتظار کریں۔ کانگریس پارٹی بیروزگار نوجوانوں کے جذبات کو اچھی طرح سمجھتی ہے اور کے سی آر حکومت نے نوجوانوں کے ساتھ جو دھوکہ کیا ہے اس کا حساب برابر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 30 لاکھ بیروزگار نوجوانوں کے تحت 90 لاکھ ووٹ ہیں اور یہ تعداد کانگریس کو 90 نشستوں پر کامیاب کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسراقتدار آتے ہی ہر سال 2 لاکھ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے۔ انہوں نے بیروزگار نوجوانوں سے اپیل کی کہ اپنے تابناک مستقبل کیلئے کانگریس کے اقتدار کو یقینی بنائیں۔ ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر دولت اور شراب پر انحصار کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ شراب اور دولت کے بجائے انتخابی منشور کی بنیاد پر عوام سے ووٹ کی اپیل کریں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر کے سی آر کو شراب اور دولت پر انحصار نہ ہوتا تو وہ شہیدان تلنگانہ کی یادگار پہنچ کر حلف اٹھاتے۔ کے ٹی آر اور ہریش راؤ الزام عائد کررہے ہیں کہ پڑوسی ریاستوں سے تلنگانہ کو رقومات منتقل کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضورآباد اور منگوڑ میں کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے بی آر ایس اور بی جے پی نے انتخابی مہم کو آلودہ کردیا۔ تلنگانہ کے تمام ضمنی انتخابات میں سینکڑوں کروڑ دونوں پارٹیوں کی جانب سے خرچ کئے گئے اور اسمبلی انتخابات میں یہی رجحان رہے گا۔ ایک ووٹ کیلئے پانچ تا دس ہزار روپئے دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منگوڑ ضمنی چناؤ میں 300 کروڑ کی شراب تقسیم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی چناؤ میں خرچ کی گئی رقومات ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے خودکشی کرنے والی طالبہ کے خلاف برسراقتدار پارٹی اور پولیس عہدیداروں کی بیان بازی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسابقتی امتحانات کے التواء پر طالبہ نے خودکشی کی تھی لیکن اسے لوافیر قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس پولیس عہدیدار نے طالبہ کے ٹیلی فون چیاٹنگ کو برسرعام کیا اس کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت کی جائے گی۔ برسراقتدار پارٹی کے اشارہ پر یہ قدم اٹھایا گیا تاکہ بیروزگار طلبہ کو احتجاج سے روکا جائے۔