کانگریس کی زیر قیادت اپوزیشن کا آج مہا دھرنا

   

قومی اور ریاستی مسائل کا احاطہ، 27 ستمبر کو ’ بھارت بند ‘ کی تیاریاں
حیدرآباد۔/21 ستمبر، ( سیاست نیوز) مرکز اورریاستی حکومتوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف کانگریس کی زیر قیادت کل اندرا پارک پر اپوزیشن کی جانب سے مہا دھرنا منظم کیا جائے گا۔ اس دھرنا میں کانگریس کے علاوہ بائیں بازو کی جماعتیں تلنگانہ جنا سمیتی اور دیگر جماعتوں کے قائدین اور کارکن حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس دھرنا کی کامیابی کیلئے مختلف طبقات کے قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ کسانوں کے مسائل، بے روزگاری، پٹرول و ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور دلتوں اور قبائل کے ساتھ ناانصافی جیسے موضوعات پر یہ دھرنا منظم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو ملک کی 19 جماعتوں نے ’ بھارت بند ‘ کا اعلان کیا ہے۔ 30 ستمبر کو تمام ضلع کلکٹریٹس کے روبرو دھرنا منظم کرتے ہوئے یادداشت پیش کی جائے گی۔5 اکٹوبر کو جنگلاتی اراضی کے حقوق قبائیل کو حوالے کرنے کیلئے عادل آباد سے اشوا راؤ پیٹ تک راستہ روکو احتجاج منظم کیا جائے گا۔کانگریس پارٹی نے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ سے مطالبہ کیا کہ ڈرگ اسکام میں خود کو بے قصور ثابت کرنے کیلئے ریونت ریڈی کا وائیٹ چیلنج قبول کرتے ہوئے اپنا ٹسٹ کرائیں۔ نائب صدر پردیش کانگریس ڈاکٹر ملو روی اور سابق رکن اسمبلی مل ریڈی رنگاریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت ڈرگ اسکام میں بعض اہم شخصیتوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ اکسائیز نے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ اسکام میں خود کو بے قصور ثابت کرتے ہوئے عوام میں سیاسی قائدین پر اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے۔ اسی جذبہ کے تحت ریونت ریڈی نے وائیٹ چیلنج مہم شروع کی ہے۔ ریونت ریڈی نے ڈرگ ٹسٹ کیلئے کے ٹی آر کو مزید دو دن کا وقت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کے ڈرگ ٹسٹ میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے نے وائیٹ چیلنج کو قبول کیا جو کونڈا وشویشور ریڈی نے کیا تھا۔ ملو روی نے کہا کہ کے ٹی آر نے ریونت ریڈی کے خلاف جو مقدمہ دائر کیا تھا اسے عدالت نے خارج کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر خود کو راہول گاندھی کے مساوی قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں پہلے تلنگانہ کے کانگریس قائدین کا چیلنج قبول کرنا چاہیئے۔