بی آر ایس کو 25 سے زیادہ نشستیں نہیں ملیں گی، تمام سروے کانگریس کے حق میں، کاماریڈی سے کے سی آر کی ناکامی یقینی
کاماریڈی ۔ 30 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پردیش کانگریس کے صدر و کاماریڈی کانگریس امیدوار اے ریونت ریڈی نے آج نظام آباد اربن کانگریس کے امیدوار محمد علی شبیر کے ہمراہ کانگریس پارٹی آفس پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کاماریڈی کی عوام با شعور ہیں اور چندر شیکھر رائو کی یہاں سے ناکامی یقینی ہے۔ انہوں نے گذشتہ کئی سالوں سے چندر شیکھر رائو حلقہ بدلتے ہوئے سدی پیٹ، کریم نگر ، محبوب نگر ، گجویل سے مقابلہ کرتے ہوئے گجویل میں ناکامی کے خوف سے کاماریڈی سے مقابلہ کیا تو کاماریڈی کی عوام انہیں ناکام بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ریونت ریڈی نے سری کانت چاری کو زبردست خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے پہلے شہید سری کانت چاری کی شہادت اور انتخابات مربوط ہے۔ 29 نومبر کے روز سری کانت چاری نے ایل بی نگر چوراستہ پر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی اور ڈسمبر 3 کے روز سری کانت چاری شہید ہوگئے تھے اور 2023 ء نومبر میں تلنگانہ کے انتخابات کا مرحلہ شروع ہوا تھا اور 3؍ ڈسمبر کو مرکزی یو پی اے حکومت نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کا قیام عمل میں لانے کا اعلان کیا تھا اور ان دو تاریخوں کا ملتا جلتا رشتہ ہے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ابتداء سے یہ بات واضح طور پر بتائی جارہی ہے کہ 30 ؍ نومبر کے روز انتخابات ہوں گے اور 3؍ ڈسمبر کے نتائج اور 9؍ ڈسمبر کے دن کانگریس کی حکومت قائم ہوگی اور تلنگانہ کی باشعور عوام کے فیصلہ پر پورا اعتماد ہے ۔ ہنگامی صورت میں بھی کانگریس اپنی جدوجہد کی ہے اور ایگزٹ پول کانگریس اقتدار پر آنے کی رپورٹ پیش کررہی ہے اور کوئی بھی سروے کانگریس کے خلاف نہیں ہے اور کانگریس کی سونامی آرہی ہے اور اس سونامی میں سب بہہ کر چلے جائیں گے ۔ پولنگ کے بعد گذشتہ انتخابات میں کے سی آر نے صحافتی کانفرنس سے مخاطب کیا تھا لیکن اس مرتبہ کے ٹی آر صحافتی کانفرنس سے مخاطب کیا ہے اس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ان کی ناکامی یقینی ہے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ سماج میں چار دشمن ہیں اور یہ کے سی آر کے افراد خاندان ہیں اور باقی تمام افراد تلنگانہ کے شہری ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ نظام کے دور حکومت میں رضاکاروں کے دور کے بعد بھی حالات معمول پر ہوگئے تھے ۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ بی آرایس پارٹی 25 سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں کرے گی اور آج بھی میں اس دعویٰ پر قائم ہوں ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ نتائج کے بعد کے ٹی آر کا امریکہ روانہ ہونا یقینی ہوگا کانگریس حکومت کے قیام کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ سی ایل پی اور کانگریس ہائی کمان اس بارے میں فیصلہ کرے گی ۔ مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ پروفیسر کونڈہ رام کی قیادت میں تلنگانہ جے اے سی علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کیلئے جدوجہد کیا تھا ان کی قیادت میں شہیدان تلنگانہ کیلئے امدادی کام انجام دینے کیلئے فیصلہ کیا جائیگا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد ذمہ دارانہ طور پر کام کرے گی اور سونچ سمجھ کر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ شام 6 بجے سے قبل جو بھی جذباتی بیان بازی کی گئی تھی لیکن اب آئندہ اس طرح کی بیان بازی نہیں کی جائے گی اور ڈسمبر 9 کے بعد فیصلہ کئے جائیں گے ۔ مجلس کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ریونت ریڈی نے کہا کہ مجلس بی جے پی کے ساتھ ہے لیکن مجلس اگر مسلم مسائل پر قائم ہونے والی حکومت میں مشورہ دے تو اس بارے میں غور کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ 4 فیصد تحفظات فراہم کرنے میں شبیر علی نے اہم رول ادا کیا تھا اور اقلیتوں کو ساتھ لیکر کام کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ۔ اقلیت اور اکثریت کو ساتھ لیکر کام کیا جائیگا۔ کاماریڈی اور کوڑنگل سے کامیاب ہونے کی صورت میں کونسی سیٹ چھوڑی جائے گی اس بارے میں پوچھے گئے سوال پر ہائی کمان اس کا فیصلہ کرے گی ۔
