کانگریس کی غنڈہ گردی ، بی جے پی کی فرقہ پرستی پر عوام بی آر ایس کو فوقیت دیں

   

سرسلہ اور سدی پیٹ میں جلسوں سے چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو آشیرواد دینے کی عوام سے اپیل

حیدرآباد : /17 اکٹوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ کانگریس قائدین کلہاڑی کندھے پر رکھ کر غنڈوں کی طرح گھوم رہے ہیں ۔ اگر کانگریس کو غلطی سے بھی اقتدار حاصل ہوجائے گا تو ریاست خطرے میں پڑجائے گی ۔ بی جے پی مذہبی جذبات بھڑکاتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ دونوں جماعتوں کا خفیہ ایجنڈہ ہے اور ان کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہیں ۔ دونوں جماعتوں سے عوام چوکنا رہیں ۔ ترقی اور بہبود کیلئے بی آر ایس کو تیسری مرتبہ اقتدار حوالے کریں ۔ پارٹی منشور کے ذریعہ جو وعدے کئے گئے ہیں اُس پر مکمل عمل آوری کی جائے گی ۔ سدی پیٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ سرزمین ہے جس نے مجھے چیف منسٹر بنادیا ہے ۔ میں نے یہ اسمبلی حلقہ 6 فیٹ کے بلٹ (ہریش راؤ) کے حوالے کیا جس نے مجھ سے زیادہ اس حلقہ کی ترقی کیلئے کام کیا ہے ۔ جس نے مجھ سے زیادہ اس حلقہ کی ترقی کیلئے کام کیا ہے ۔ سدی پیٹ میں ریل ، میڈیکل کالج ، دیگر تعلیمی ادارے بہترین سڑکیں ، تمام بنیادی سہولتیں دستیاب ہوگئی ہیں ۔ گزشتہ انتخابات میں ہریش راؤ کو سدی پیٹ کے عوام نے ایک لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب بنایا تھا وہ اُمید کرتے ہیں اس مرتبہ ہریش راؤ کی اکثریت مزید بڑھ جائے گی ۔ چیف منسٹر کے سی آر اپنی تقریر کے دوران جذباتی ہوگئے اور کہا کہ ان کے بچپن میں جب ان کی ماں بیمار ہوگئی تھی تو ایک مدیراج خاتون نے انہیں دودھ پلایا تھا جس کو وہ اپنی آخری سانس تک بھلا نہیں سکتے ۔ بی آر ایس پارٹی کی ہائی کمان تلنگانہ کے عوام ہیں وہ تلنگانہ عوام کے غلام ہیں اور ان کو جوابدہ ہے ۔ جبکہ کانگریس اور بی جے پی کے قائدین دہلی اور گجرات کے غلام ہیں ۔ ریاست کا ہر چھوٹا فیصلہ بھی انہیں دہلی اور گجرات سے اجازت لے کر کرنا پڑتا ہے ۔ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے کانگریس کے قائدین عوام کو ہتیھیلی میں جنت دکھارہے ہیں ۔ یہاں جو وعدے کررہے ہیں اُن وعدوں پر کرناٹک ، راجستھان ، چھتیس گڑھ اور ہماچل پردیش میں کوئی عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ بی جے پی بھی ایسے ہی وعدوں کے ساتھ عوام کے سامنے آئے گی ۔ دونوں جماعتیں ناقابل بھروسہ ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ کافی غور و خوص اور تلنگانہ کی معاشی صورتحال ، آمدنی و اخراجات کا تخمینہ کرنے کے بعد ہی بی آر ایس کا انتخابی منشور جاری کیا گیا ہے جو بھی وعدے کئے گئے ہیں تیسری مرتبہ حکومت تشکیل دینے کے بعد صدفیصد عمل آوری کی جائے گی ۔ یہ کے سی آر کا وعدہ ہے ۔ سرسلہ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کی عوام کی حکومت ہے ، بافندوں کی حکومت ہے ۔ بافندوں کی ترقی و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے رمضان ، کرسمس اور بتکماں تہوار کے موقع پر کپڑے تیار کرنے کی ذمہ داری بافندوں کو سونپی گئی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں بتکماں کی ساڑیاں نذر آتش کرتے ہوئے بافندوں کے مقدر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایسی جماعتوں کو انتخابات میں عوام سبق سکھائیں ۔ بی آر ایس کے انتخابی منشور سے اپوزیشن جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہیں اس کے خلاف عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ان کی باتوں پر ہرگز بھروسہ نہ کریں ۔ ریاست میں بی آرایس تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرے گی ۔ راشن کارڈ رکھنے والے تمام غریب عوام کو باریک چاول سربراہ کیا جائے گا ۔ وہ ووٹوں کی خاطر جھوٹ نہیں بولتے جو وعدہ کرتے ہیں اس کو نبھاتے ہیں ۔ کانگریس پر غلطی سے بھروسہ کیا گیا تو 24 گھنٹے سربراہ ہونے والی برقی 3 گھنٹے تک محدود ہوجائے گی ۔ کسانوں کو یوریا حاصل کرنے کیلئے پھر سے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑے گا ۔ تمام فلاحی اسکیمات ختم ہوجائیں گے ۔ جو ترقیاتی کام جاری ہیں وہ درمیان میں ہی روک دیئے جائیں گے ۔ وہ اسمبلی حلقہ سرسلہ سے بخوبی واقف ہے ۔ ابھی تک تقریباً 170 مرتبہ اس حلقہ کا دورہ کرچکے ہیں ۔ کے ٹی آر اس حلقہ کی ترقی کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہے ہیں ۔ متحدہ آندھراپردیش میں بافندے خودکشیاں کیا کرتے تھے ۔ اب عزت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ کانگریس پارٹی کے قائدین کندھوں پر کلہاڑی رکھ کر غنڈوں کی طرح گھوم رہے ہیں ۔ اگر کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں خطرات بڑھ جائیں گے ۔ دھرانی پورٹل سے 98 فیصد کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ ریونت ریڈی اور راہول گاندھی نے بھی کہا ہے ۔ کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں دھرانی پورٹل کو خلیج بنگال میں پھینک دیا جائے گا ۔ کسانوں کیلئے پھر سے مشکلات شروع ہوجائیں گی ۔ انہیں عدالتوں کے چکر کاٹنا پڑے گا ۔ لہذا عوام کانگریس کی سازشوں سے چوکنا رہیں ۔ ن