بنگلورو: جب کرناٹک انتخابات کے نتائج منظر عام پر آئے اور کانگریس نے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی تو بی جے پی اور اس سے تعلق رکھنے والے لوگ بوکھلاہٹ کے شکار ہوگئے اور طرح طرح کی جھوٹی خبریں نشر کرنے لگے۔
کانگریس کی جیت کے بعد پورے کرناٹک میں ایک جشن کا ماحول بن گیا، ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سمیت ریاست کے تمام طبقات نے ایک ساتھ مل کر جیت کا جشن منایا، وہیں کرناٹک ضلع اتر کنڑا میں واقع تاریخی شہر بھٹکل سے ایک خوبصورت تصویر سامنے ائی، بھٹکل میں واقع شمس الدین سرکل کے پاس تمام مذاہب کے لوگ اپنا اپنا جھنڈا لے کر جشن کےلیے جمع ہوگئے اور سرکل کے اوپر تمام جھنڈے لگا دیے۔ اور آپسی بھائی چارے کا ثبوت پیش کیا، اور اپنے عمل سے یہ بتا دیا کہ یہ جھنڈے کبھی ایک دوسرے کے خلاف نہیں اٹھیں گے۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شوشل میڈیا میں کچھ اس طرح سے پروپیگنڈہ کیا گیا۔
بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے اسی طرح کے دعوے کے ساتھ ویڈیو شیئر کیا۔
حقائق کی جانچ
جب ہم دونوں جھنڈوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو ہمیں پاکستانی پرچم اور جشن کے موقع پر لگائے گئے جھنڈے کے درمیان بہت زیادہ فرق نظر آتا ہے۔ پاکستانی پرچم گہرے سبز رنگ کا ہے جس کے اطراف میں سفید پٹی ہے لیکن ریلی میں لہرایا جانے والا جھنڈا اسلامی پرچم ہے جو چمکدار سبز ہے، جو عام طور پر عقیدے کی نمائندگی کرتا ہے۔
ہلال چاند اور ستارے کی علامت عالمی سطح پر اسلام سے وابستہ ہے اور کچھ اسلامی ممالک کے جھنڈوں پر یہ علامت ہے جن میں ترکی، آذربائیجان، ترکمانستان، الجزائر اور لیبیا شامل ہیں۔
بھٹکل کے صلاح الدین نامی ایک شخص کے مطابق آلٹ نیوز کے حوالے سے بتایا گیا کہ سبز جھنڈا لہرا کر جشن میں کوئی فرقہ وارانہ گھومنے کی کوشش نہیں کی گئی، “تمام جھنڈے ایک ہی وقت میں نصب کیے گئے تھے، سبز، نارنجی کے ساتھ ساتھ بابا صاحب امبیڈکر پرچم بھی شامل تھا ،” انہوں نے کہا کہ ہندو کانگریس کے حامی اور مسلمان ایک ساتھ خوشی منا رہے تھے اور ہندوؤں کے ہاتھوں میں نارنگی رنگ کے جھنڈے تھے۔
اسی طرح اس کو فرقہ وارانہ فتح میں بدلنے کی ایک اور کوشش کی گئی۔ ایک ترمیم شدہ ٹویٹ جسے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے منسوب کیا گیا تھا جس میں کانگریس کو ان کی جیت کے بعد مبارکباد دی گئی تھی اسے بھی انٹرنیٹ پر نشر کی گئی، حقائق کی جانچ کرنے والوں نے اسے ایک مورفڈ ٹویٹ کے طور پر مسترد کردیا۔
حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ایک رجحان بن گیا ہے جس میں مسلمانوں کو ملک دشمن اور دوسرے معاملات میں پاکستان کے حامی عناصر کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے جو کہ ملک کے لیے خطرہ ہیں۔ بہت سے بھونڈے شہری خطرناک افسانوں سے حقیقت کو نہیں چھین سکتے اور پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
آپ کو بتا دیں کہ شوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کی خبر جب بھٹکل ایس پی کو ملی تو انہوں نے وضاحت پیش کی کہ وہ پاکستان کا نہیں اسلام کا جھنڈا تھا۔۔