کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا سے قبل مدھیہ پردیش میں کانگریس کارکنان نے فضا کو ہموار کرنا شروع کردیا ہے۔ بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود کے ذریعہ ایک جانب بھوپال سے سمودھان بچاؤ یاترا شروع کی گئی ہے تو وہیں مدھیہ پردیش کے سابق سی ایم و ایم پی کانگریس کے صدر کمل ناتھ کی قیادت میں ریاست گیر سطح پر گاندھی چوپال کا انعقاد شروع کیاگیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے شکارپور گاؤں میں منعقدہ گاندھی چوپال و بھارت جوڑو یاترا میں جہاں مشترکہ تہذیب کے فروغ پر زور دیاگیا وہیں تنگ نظری کی سیاست کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔ایم پی پی سی سی صدر کمل ناتھ نے گاندھی چوپال سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں رنگ و نسل ،زبان وبیان،مذہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اس کے باؤجود یہاں پر کثرت میں وحدت ہے اور یہی اس کا طرہ امتیاز ہے۔اس لئے بھارت کے علاوہ کہیں بھی بھارت جوڑو یاترا نہیں نکالی جا سکتی ہے۔آج ملک میں ایک بار پھر زبان کے جھگڑے پیدا کئے جارہے ہیں، پھر سے خالصتان کے نعرے لگائے جانے لگے ہیں اس لئے آج بھارت جوڑو یاترا وقت کی ضرورت ہے۔راہول گاندھی کی یاترا مختلف رنگ و نسل ،مذاہب اور کلچر کے لوگوں کو جوڑنے اورانہیں ساتھ لے کر چلنے کی یاترا ہے۔راہل گاندھی کثرت میں وحدت کی علامت بن گئے ہیں وہ ہندستان کی عوام کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔وہ سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ ایک ساتھ چلنے میں کتنی طاقت ہے۔آج آزادی کی تاریخ کو بچانے کے لئے گاندھی چوپال کا انعقاد کیاگیا۔آئین کو بچانے کے لئے چوپال کا انعقاد ہے۔آئین محفوظ رہے گاتو ملک محفوظ رہے گا۔