نئی دہلی ۔ ایک طرف یوم آزادی کے موقع پر سرکاری اشتہار میں چیف منسٹر اروند کجریوال کی تصویر نہ چھاپنے پر دہلی حکومت کے وزراء اور افسران کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے، وہیں دوسری طرف ہورڈنگز بھی لگ گئے ہیں۔ دہلی کے کچھ علاقوں میں جو مہم شروع ہوئی ہے اس میں کہہ رہے ہیں کہ کجریوال آئیں گے۔ ان ہورڈنگز پر چیف منسٹر اروند کجریوال کی تصویر اور کجریوال آئیں گے کا نعرہ درج کیا گیا ہے۔ دہلی کے چیف منسٹرکیجریوال ایکسائز پالیسی میں مبینہ گھپلے میں تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ ای ڈی نے اروندکیجریوال کو 21 مارچ کوگرفتار کیا تھا اور سی بی آئی نے انہیں 26 جون کو عدالتی حراست سے گرفتارکیا تھا۔ اروند کیجریوال کو ای ڈی معاملے میں سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت مل گئی ہے، جب کہ سپریم کورٹ 23 اگست کو سی بی آئی مقدمہ کی سماعت کرے گا۔ دراصل یہ ہورڈنگز عآپ کی مہم کے آغاز کا حصہ ہیں۔ پارٹی نے لکھا ہے، عام آدمی پارٹی نے ایک نئی مہم شروع کی۔ کیجریوال آئیں گے کے نعرے کے ساتھ مہم شروع کی گئی ہے۔ پارٹی کا نعرہ ہے کہ منیش سسودیا آئے، کیجریوال آئیں گے۔اس سے پہلے دہلی حکومت کے وزیر آتشی نے چیف منسٹر اروند کیجریوال کی تصویر کے بغیر یوم آزادی کا اشتہار جاری کرنے پر انفارمیشن اینڈ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور سکریٹری کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ 20 اگست کو جاری وجہ بتاؤ نوٹس میں اس کی وضاحت طلب کی گئی ہے ۔