دمشق : شام میں کرد ملیشیا اور ترکیہ کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کے درمیان جنگ میں شدت آگئی۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق شمالی شہر منبج میں کردوں کے زیرِ قیادت سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 24 فوجی ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر ترکیہ کے حمایت یافتہ گروہوں سے تھے۔سیرشین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ جھڑپوں میں 23 ترک حمایت یافتہ فوجی اور ایس ڈی ایف سے منسلک منبج ملٹری کونسل کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔ برطانیہ میں قائم جنگی نگران ادارے نے کہا کہ منبج کے جنوب میں 2قصبات پر انقرہ کے حمایت یافتہ فوجیوں کے حملوں سے جھڑپ شروع ہوئی۔ شمالی شام کے وسیع علاقہ پر کردوں کی قیادت والی انتظامیہ کا کنٹرول ہے۔ ترکیہ ایس ڈی ایف کے اہم بازو پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) پر عسکریت پسند کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستگی کا الزام لگاتا ہے جسے واشنگٹن اور انقرہ دونوں نے دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ منبج ملٹری کونسل کے زیر قبضہ عرب اکثریتی شہر منبج میں لڑائی کئی روز سے جاری ہے۔ آبزرویٹری کے مطابق منبج کے جنوب اور مشرق میں جھڑپوں کے دوران ترکیہ کے جنگجوؤں نے علاقہ پر ڈرون اور بھاری توپ خانے سے بمباری کی۔