واشنگٹن 6 اپریل ( ایجنسیز ) مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ کے صدر ڈونالڈٹرمپ ایک بار پھر اپنے بیانات کے باعث خبروں میں آگئے ہیں۔ وہ مسلسل سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی تبصرے کر رہے ہیں۔ تازہ بیان میں انہوں نے ایران کی کرد آبادی کے حوالے سے بات کی، جو ایران کی مجموعی آبادی کا تقریباً 10 فیصد بتائی جاتی ہے، اور ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے امریکہ کو مایوس کیا۔ذرائع کے مطابق، ایران میں حالیہ جنگ اور کشیدگی سے قبل کئی ہفتوں تک حکومت مخالف مظاہرے جاری رہے تھے، جن کے دوران مبینہ طور پر امریکہ نے خفیہ طور پر ہتھیار بھیجنے کی کوشش کی تھی تاکہ احتجاج کرنے والوں تک پہنچائے جا سکیں۔ اطلاعات کے مطابق ان ہتھیاروں کو کرد گروہوں کے ذریعے مظاہرین تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ٹرمپ نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’ہم نے بڑی تعداد میں ہتھیار اس مقصد کیلئے بھیجے کہ انہیں کردوں کے ذریعے مظاہرین تک پہنچایا جائے، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ ہتھیار مظاہرین تک پہنچانے کی بجائے ان ہی کے پاس رکھ لیے گئے۔ انہوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا۔یاد رہے کہ گزشتہ دسمبر میں ایران میں معاشی بحران کے باعث بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جن کا مقصد مبینہ طور پر حکومت کی تبدیلی بھی بتایا جاتا ہے۔ اسی دوران کرد گروہ بھی ایران میں طویل عرصے سے حکومتی پالیسیوں کے خلاف سرگرم رہے ہیں اور انہیں عسکری مہارت کیلئے جانا جاتا ہے۔دوسری جانب، شام میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ نے کرد فورسز کو تربیت بھی دی تھی اور انہیں اتحادی کے طور پر استعمال کیا تھا۔ تاہم، حالیہ صورتحال میں امریکہ کی کوششیں خاطر خواہ نتائج نہ دے سکیں۔ماہرین کے مطابق ایران میں پہلے ہی معاشی بحران کے باعث عوامی بے چینی موجود تھی، تاہم بعد میں پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے عوامی رائے کو مزید تبدیل کر دیا، جس کے باعث خطے میں امریکی حکمت عملی کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔F/K