کرشنا کا پانی 50 فیصد کے تناسب سے تقسیم کیا جائے

   

ریور مینجمنٹ بورڈ کا اجلاس، آندھرا کے غیر قانونی پراجکٹس کی مخالفت

حیدرآباد۔ یکم ستمبر (سیاست نیوز) کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے اجلاس میں تلنگانہ حکومت نے واضح کردیا ہے کہ تلگو ریاستوں میں 50 فیصدسے کم پر پانی کی تقسیم ناقابل قبول ہیں۔ حیدرآباد میں آج کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کا اجلاس صدرنشین ایم پی سنگھ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ محکمہ آبپاشی کے پرنسپل سکریٹری رجت کمار کی قیادت میں تلنگانہ کے عہدیداروں کی ٹیم نے شرکت کی اور حکومت کے موقف کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا کے پانی کی تقسیم کے معاملہ میں کسی بھی جانبداری کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ کے عہدیدار اجلا س میں شریک تھے۔ رجت کمار نے اجلاس کو بتایا کہ سابق میں دونوں ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا فیصلہ عبوری طور پر کیا گیا تھا ۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش کے درمیان 512 اور 299 کے تناسب سے پانی کی تقسیم ہمیں قبول نہیں ہے۔ تلنگانہ میں صرف 2015-16 ء کے لئے پانی کی اس تقسیم کو قبول کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایل بی سی ، کلواکرتی ، نیٹم پاڈو اور بیما آبپاشی پراجکٹس مکمل ہوچکے ہیں اور پانی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2018 ء سے تلنگانہ حکومت پانی کی تقسیم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 50 فیصد کے تناسب سے پانی کی تقسیم میں اگر کمی کی جاتی ہے تو یہ تلنگانہ کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔ اس سلسلہ میں ریور مینجمنٹ بورڈ کو مستقل طور پر فیصلہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 70 اور 30 کے تناسب سے تقسیم ہرگز قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں پانی کی تقسیم سے متعلق شرائط کا حوالہ دیا اور کہا کہ تلنگانہ کے آبپاشی پراجکٹس کے بارے میں آندھراپردیش کے اعتراضات ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کی جدوجہد میں پانی کا حصول اہم مسئلہ رہا۔ پانی اور دیگر وسائل میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کے نتیجہ میں علحدہ ریاست کی جدوجہد شروع ہوئی ہے ۔ تلنگانہ میں لفٹ اریگیشن پراجکٹ کی تعداد زیادہ ہے اور پانی کی ضرورت کی تکمیل کیلئے برقی کی پیداوار ضروری ہے۔ انہوں نے حالیہ عرصہ میں تلنگانہ کی جانب سے برقی کی تیاری کو حق بجانب قرار دیا ۔ رجت کمات نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت دریائے کرشنا پر غیر قانونی پراجکٹس تعمیر کر رہی ہے۔ R