کرمن گھاٹ تشدد کیس، 7 افراد گرفتار، 5 مقدمات درج

   

حیدرآباد۔/23 فروری ( سیاست نیوز) رچہ کنڈہ پولیس نے کرمن گھاٹ تشدد معاملہ میں 7 افراد کو گرفتار کرلیا اور اس سلسلہ میں 5 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ پولیس پر سنگباری اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور تشدد کرنے والے گاؤ رکھشک ہنوز پولیس کی گرفت سے آزاد ہیں۔ کل رات دیر گئے کرمن گھاٹ، سعید آباد علاقہ میں حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے جب پولیس نے گاؤ کرکھشکوں کو قابو میں کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا۔ اس دوران مشتعل ہجوم نے پولیس پر سنگباری کی اور پولیس کی گاڑی کو تباہ کردیا۔ سنگباری میں ایک سب انسپکٹر مادھو ریڈی کے سر زخم آئے جبکہ کئی افراد کو معمولی زخم آئے۔ کل رات سے کرمن گھاٹ اور آس پاس کے علاقوں میں نیم فوجی دستوں کو طلب کرتے ہوئے سخت چوکسی اختیار کی گئی ہے۔ کمشنر پولیس رچہ کنڈہ مہیش بھگوت نے آج حالات کا جائزہ لیا اور عوام سے افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی۔ کل رات گاؤ رکھشکوں نے بولیرو گاڑی کو روک کر بڑے جانوروں کی منتقلی کے بہانے نشانہ بنایا۔ حالات کشیدہ ہوگئے جس پر گاؤ رکھشکوں نے مقامی مندر میں پناہ لی اور پھر زبردست ہجوم جمع ہوگیا۔ میرپیٹ پولیس نے بڑے جانوروں کو منتقل کرنے والے 7 افراد کو گرفتار کرلیا جن میں 50 سالہ یوسف، ان کے فرزند نثار ساکن تالاب کٹہ، 21 سالہ نواز ساکن سنتوش نگر، 23 سالہ محمد غوث ساکن معین باغ، 21 سالہ محمد ایوب ساکن سنتوش نگر، 35 سالہ محمد محسن کمال ساکن مادنا پیٹ منڈی اور 26 سالہ ایس لنگایا ساکن منچال کو گرفتار کرلیا۔ اس سلسلہ میں میرپیٹ پولیس میں 3 اور سرور نگر پولیس کی جانب سے سخت دفعات کے تحت 2 مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں جیل منتقل کردیا گیا۔ سنگباری اور پولیس کی گاڑی کو نقصان پہنچانے پر بھی مقدمات درج کئے گئے۔ ع