نئی دہلی : کرناٹک کی نو منتخب کانگریس حکومت نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابقہ حکومت میں منظور کردہ تبدیلیٔ مذہب مخالف قانون کو منسوح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ کا انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقلیتی گروپوں کی جانب سے خیرمقدم کیا جا رہا ہے جب کہ بی جے پی اس فیصلہ پر سخت تنقید کر رہی ہے۔ ریاست کے قانون اور پارلیمانی امور کے وزیر ایچ کے پاٹل نے جمعرات کو بنگلورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 5 جولائی سے شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی کے اجلاس میں اس قانون کو ختم کر دیا جائے گا۔ یہ قانون گزشتہ سال ستمبر میں منظور کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور مسلم تنظیموں نے ریاستی حکومت کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بی جے پی حکومت نے مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کی جو سیاست شروع کی تھی توقع ہے کہ اس قدم سے اس پر قدغن لگانے میں مدد ملے گی۔ ’آل انڈیا کرسچین کونسل‘ (اے آئی سی سی) کے جنرل سیکریٹری اور انسانی حقوق کے سینئر کارکن جان دیال نے اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدھارمیا کی حکومت کا یہ قدم انتہائی جرأت مندانہ ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تو تھا ہی قبائلیوں کے بھی خلاف تھا کیوں کہ اگر کوئی قبائلی اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو اس قانون کے مطابق اسے زیادہ سخت سزا کا سامنا ہے۔