بنگلورو: کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور جنتادل (سیکولر) کے قائد آج ایک ایسا بیان دیا جس نے دلت اور مسلم حلقوں میں نہ صرف خوشی بلکہ تشویش کی بھی لہر دوڑادی ہے تاہم کرناٹک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے ان کے بیان پر منفی ردعمل ظاہر کیا۔ آخر وہ بیان کیا تھا ؟جے ڈی ایس کے قائد کمارا سوامی نے کہا کہ کرناٹک میں حالیہ عرصہ میں فرقہ وارانہ منافرت کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جس میں حجاب پر پابندی اور حلال گوشت پر پابندی والا معاملہ اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2023 ء کے انتخابات میں ان کی پارٹی 123 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کا نشانہ رکھتی ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنی پارٹی کی ’’پنچ رتنا یاترا‘‘ کے دوران کہی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ پارٹی 100 انتخابی حلقوں کے لئے امیدواروں کے ناموں کی پہلی فہرست کا اعلان کرچکی ہے اور اگر ان کی پارٹی برسر اقتدار آگئی تو کسی دلت یا مسلم قائد کو چیف منسٹر بنانے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے ۔ یاد رہے کہ اس وقت ان کی پنچ رتنا یاترا کرناٹک کے کولار ڈسٹرکٹ میں ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی سیاسی حلقوں میں گشت کر رہی ہے جہاں جنتا دل سیکولر کے صدرسی ایم ابراہیم نے کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی برسر اقتدار آگئی تو وہ ٹیپو یونیورسٹی تعمیر کریں گے۔ بعض دیگر سیاسی جماعتوں کا یہ ماننا ہے کہ جے ڈی ایس کرناٹک کے انتخابات میں ’’بادشاہ گر ‘‘ کی حیثیت سے ابھرے گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی ووکالیگا کمیونٹی کو بھی اپنی جانب راغب کرنے کوشاں ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ دنوں میں بنگلورو شہر کے بانی نادا پربھو کیمپے گوڑا کے 108 فٹ اونچے مجسمہ کا افتتاح کیا تھا جو بنگلور انٹرنیشنل ایرپورٹ کی عمارت میں تعمیر کیا گیا ہے ۔ گوڑا ووکالیگا کمیونٹی کے انتہائی اہم آئکون مانے جاتے ہیں۔