کرناٹک میں حجاب پہننے پر کلاس میں داخلہ پر روک

,

   

اسلامی تنظیم اور طالبات کا شدید احتجاج،اردو ، عربی میں بات کرنے پر بھی پابندی

اوڈپی؍بنگلور: کرناٹک کے اوڈپی ضلع میں ایک چونکانے والا واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک سرکاری کالج کی جانب سے ہفتہ کو مبینہ طور پر کچھ طالبات کو حجاب پہن کر کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس کی اطلاع ضلع عہدیداروں نے دی۔اس واقعہ پر ہندوستانی اسلامی تنظیم کے کچھ ارکان اور کالج کے طالبات نے شدید اعتراض کیا ہے۔کالج کی ایک طالبہ نے بتایاکہ ہم میں سے جو حجاب پہنے ہوئے تھیں، ان طالبات کو کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ذرائع کے مطابق اسلامی تنظیم کے کچھ ارکان کے ساتھ کالج کے کچھ طالبات کے ایک وفد نے اس واقعہ کے بارے میں ضلع کلکٹر کورم راؤ سے رابطہ کیا۔ جن پانچ لڑکیوں کو کلاس میں حجاب پہن کر آنے سے روک دیا گیا تھا، وہ لڑکیاں بھی وفد میں شامل تھیں۔کلکٹر نے کہا کہ انہوں نے اس معاملہ میں کالج کے پرنسپل سے بات کی ہے۔ایک طالبہ نے کہاکہ ہمیں اپنے والدین کو کالج لانے کیلئے کہا گیا تھا، لیکن جب وہ پہنچے تب ذمہ داران نے انہیں تین سے چار گھنٹے تک انتظار کرایا۔ایک دیگر طالبہ نے کہاکہ حجاب پہننا شروع کرنے سے پہلے سب کچھ ٹھیک تھا لیکن اب ہمارے ساتھ اس طرح سے بھید بھاؤ کیا جارہا ہے۔وومنس پییو کالج کی چھ مسلم طالبات نے الزام لگایا ہے کہ پرنسپل انہیں کلاس میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔طالبات نے یہ بھی شکایت کی کہ انہیں اردو، عربی اور بیری زبان میں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ طالبات تین دن سے احتجاج کے طور پر کلاس کے باہر کھڑی ہیں۔طالبات نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے والدین نے پرنسپل رودر گوڑا سے رابطہ بھی کیا، لیکن انہوں نے اس موضوع پر بات چیت کرنے سے صاف انکار کردیاہے۔