نتائج مایوس کن، مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کا تاثر، بی جے پی ہیڈکوارٹر پر خاموشی
حیدرآباد ۔ 13 مئی (سیاست نیوز) کرناٹک میں کانگریس کی شاندار کامیابی کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی مایوسی کا شکار ہوگئی ہے۔ تلنگانہ کے بی جے پی قائدین نے کرناٹک کے جن اسمبلی حلقوں میں بی جے پی امیدواروں کی انتخابی مہم چلائی تھی، وہاں بی جے پی کے بیشتر امیدواروں کو شکست ہوگئی ہے۔ تلنگانہ کے بی جے پی صدر بنڈی سنجے، رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر لکشمن، بی جے پی قومی عاملہ کے رکن جی ویویک کے علاوہ دوسرے قائدین نے بڑھ چڑھ کر انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ کانگریس اور بی آر ایس سربراہ کے سی آر کے خلاف الزامات عائد کئے۔ نتائج کی اجرائی کے بعد بنڈی سنجے میڈیا کے سامنے نہیں آئے۔ بی جے پی قائدین اس پر ردعمل کا اظہار کرنے پر بھی تیار نہیں ہے۔ مرکزی وزیرسیاحت جی کشن ریڈی نے کرناٹک کے نتائج کو بی جے پی کیلئے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ نتائج بی جے پی کے توقع کے برعکس آئے ہیں۔ کرناٹک میں بی جے پی حکومت کی کارکردگی سے عوام ناراض تھے۔ نتائج سے اس کا پتہ چلا ہے۔ بی جے پی ارکان اسمبلی کرناٹک میں عوام کی توقعات پر کھرے نہیں اترے۔ ان کے مسائل کو حل نہیں کئے۔ باوجود اس کے نتائج بی جے پی کیلئے مایوس کن رہے ہیں۔ بی جے پی اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ہوئے ناکامی کا جائزہ لے گی اور مستقبل میں اپنی غلطیوں کو درست کرتے ہوئے اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی پر عوام کو اعتماد ہے مگر نتائج پریشان کن ضرور ہیں۔ جی کشن ریڈی نے کہا کہ آئندہ پارلیمنٹ کے انتخابات میں بی جے پی زیادہ سے زیادہ حلقوں پرکامیابی حاصل کرے گی۔ ن