کرناٹک میں عوام کی ناراضگی سے بی جے پی تلملاہٹ کا شکار

   

رائے دہی سے قبل ماحول خراب کرنے کی منصوبہ بندی زیر غور
حیدرآباد۔25اپریل (سیاست نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹ کو متحد رکھنے مشترکہ کوشش کی جا رہی ہے اور کرناٹک میں غیر سرکاری تنظیموں اور ملی تنظیموں کے ذمہ داروں نے متحدہ طو ر پر مخالف فرقہ پرست ووٹ کی استعمال کی جو منصوبہ بندی کی ہے اس کو نقصان پہنچانے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے متعدد حربے اختیار کئے جانے لگے ہیں۔ کرناٹک کے کئی علاقوں میں بی جے پی کی تشہیری گاڑیوں کو عوام کی جانب سے نقصان پہنچایا جا رہاہے جو عوام میں بی جے پی کے خلاف ناراضگی کا ثبوت ہے اور مسلم ووٹ کے متعلق غیر سرکاری و ملی تنظیموں کے ذمہ دارانہ رول سے بھی بی جے پی کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ذرائع کے مطابق کرناٹک انتخابات کی رائے دہی سے عین قبل بی جے پی کی جانب سے ماحول کو پراگندہ کرنے بعض ایسے حربہ اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے جو بظاہر کانگریس کے حق میں نظر آئے گی لیکن وہ کانگریس کو نقصان پہنچانے کیلئے ہوں گی۔ گجرات میں مخالف بی جے پی فتویٰ کی سیاست کرتی رہی اور اس سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے 2002 کی نسل کشی کے بعد گجراتی اخبارات میں بی جے پی کو ووٹ دینا حرام جیسے فتاوے شائع کرواتے ہوئے بی جے پی اکثریتی طبقہ کے ووٹ کو متحد کرنے کی کوشش میں کامیاب ہوتی رہی ہے اور اب ریاست کرناٹک میں عوام کی جانب سے جاری مخالفت کا سامنا کرنے سے قاصر بی جے پی اسی طرح کے حربہ اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور کہا جار ہا ہے کہ کرناٹک میں بعض تنظیموں اور اداروں کے ذریعہ کانگریس کے حق میں ووٹ کی اپیل کی تیاری کروائی جارہی ہے جن کی اپیل سے کانگریس کو فائدہ حاصل ہونا تو دور بلکہ سیکولر ووٹ کے دور ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوجائے گا۔م