کرناٹک میں وزیر اعظم مودی کی مہم بھی بے اثر‘ بی جے پی مایوس

   

کانگریس کو زیادہ نقصان پہونچانے کی حکمت عملی ۔ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے پر بھی غور
حیدرآباد۔30اپریل(سیاست نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی انتخابی مہم میں شرکت کے باوجود بھی کانگریس کا پلہ بھاری ہے اور یہ بات بی جے پی کو پریشان کئے ہوئے ہے کیونکہ پارٹی کی جانب سے سرکردہ قائدین بالخصوص قومی صدر جے پی نڈا‘ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم کی انتخابی مہم کے بعد حالات تبدیل ہونے کا ادعا کیا جا رہاتھا لیکن وزیر اعظم کی انتخابی مہم متاثر کن ثابت نہ ہونے اور حالات میں کسی قسم کی تبدیلی نہ آنے پر اب کرناٹک میں فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹوں کی تقسیم کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ کرناٹک کی انتخابی مہم کو نئی کروٹ دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ ہندو مسلم طبقات میں دوریاں پیدا کی جائیں۔ پاپولر فرنٹ کے نام سے بی جے پی کے قائدین نے اکثریتی طبقہ کے عوام کو متنفر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کانگریس پر اس بات کا الزام بھی عائد کیا تھا کہ کانگریس نے شدت پسندوں کی حمایت کی تھی اس کے باوجود اسکے کوئی اثرات نہیں ہوئے ۔ اب کرناٹک انتخابات کے سلسلہ میں پارٹی اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے میں اترپردیش کی طرح رمضان اور دیوالی یا قبرستان اور شمشان کے علاوہ حجاب اور کپڑوں کو دیکھ کر پہچان بتانے جیسی تقاریر و بیانات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ بی جے پی نے کرناٹک میں پسماندہ مسلم کارڈ‘ لنگایت کارڈ اور وکالیگا کارڈ میں ناکامی کے بعد پارٹی کے سربرآوردہ قائدین کی انتخابی مہم کے اثرات نہ ہونے سے مایوس ہونے لگی ہے ۔ذرائع کے مطابق پارٹی نے اب اقتدار حاصل کرنے کی بجائے جے ڈی ایس نشستوںمیں اضافہ کے امکانات میں اضافہ کے اقدامات کو یقینی بنانے کی کوششوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے تاکہ کانگریس کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہوئے مابعد انتخابات مفاہمت کے امکانات کو برقرار رکھا جاسکے۔م