کریڈٹ کارڈ کا استعمال ، بقایا جات کی عدم ادائیگی 2 لاکھ کروڑ تک پہنچ گئی

   

آر بی آئی کا اظہار تشویش ، بینکرس کو انتباہ ، مہنگائی اور اخراجات میں اضافہ کا باعث
حیدرآباد۔26۔جون(سیاست نیوز) کریڈٹ کارڈ کے استعمال کے بعد بقایاجات کی عدم ادائیگی پہلی مرتبہ 2لاکھ کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ بینکرس کے مطابق کریڈٹ کے بقایاجات کوئی فکر انگیز نہیں ہیں کیونکہ یہ معمولی وصول طلب بقایاجات گذشتہ سہ ماہی کے دوران سب سے زیادہ ریکارڈ کئے گئے ہیں اسی لئے ریزرو بینک آف انڈیا نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بینکرس کو متنبہ کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق کریڈٹ کارڈ بقایاجات اپریل 2023کے اختتام پر 2لاکھ 258کروڑ ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کریڈٹ کارڈ بقایاجات میں مجموعی اعتبار سے 29.7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق کریڈٹ کارڈ بقایاجات کی بنیادی وجہ مہنگائی اور اخراجات میں اضافہ ہے جس کے سبب چھوٹے قرض نادہندگان کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ بینکوں سے حاصل کئے جانے والے جملہ قرض کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ امکنہ جات کے لئے سب سے زیادہ قرض بینکرس کو وصول طلب ہے جو کہ جملہ قرض کا 14.1 فیصد ہے جبکہ دوسرے نمبر پر وہیکل لون ہے جو کہ 3.7 ہے اور تیسرے نمبر پر کریڈٹ کارڈ کے وصول طلب بقایاجات ہیں جو کہ مجموعی اعتبار سے 1.4 فیصد ہیں۔بینکرس کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈ 2008 کی طرح سب کو جاری نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ محض ان صارفین کو کریڈٹ کارڈ کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے جن کا CIBIL اسکور اچھا ہے۔ ذرائع کے مطابق بینکرس کی جانب سے جاری کئے جانے والے قرضہ جات میں مجموعی اعتبار سے کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کی جانے والی تفصیلات بھی اس بات کی توثیق کر تی ہے کہ بینکوں کو وصول طلب قرضہ جات مجموعی طور پر ایک سال کے دوران کم ہوئے ہیں۔ اپریل 2023 کے اختتام پر بینکوں کو وصول طلب قرضہ جات کا فیصد 24.3ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سال گذشتہ بینکوں کو وصول طلب قرضہ جات کی فیصد 26.3 ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ ملک بھر میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ استعمال کی جانے والی رقومات کی عدم ادائیگی کے سبب بینکرس کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کے متعلق بینکرس کا کہناہے کہ وہ ان سے نمٹنے کے متحمل ہیں اور وہ بہتر انداز میں کریڈٹ کارڈ کے بقایاجات کی وصولی کو یقینی بنا رہے ہیں۔م